نیویارک: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس بعنوان “بچوں، ٹیکنالوجی اور تنازعات میں تعلیم” سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ علاقوں میں تعلیمی نظام کی تباہی کی جانب مبذول کروائی ہے۔ اس اہم اجلاس کی صدارت امریکہ کی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے کی۔
سفیر عاصم افتخار نے اپنے قومی بیان میں زور دے کر کہا کہ دنیا بھر کے جنگ زدہ علاقوں، خاص طور پر فلسطین اور جموں و کشمیر میں لاکھوں بچے کلاس رومز اور پرسکون ماحول کے بجائے ملبے اور افراتفری کے درمیان پروان چڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں اسکولوں کو جان بوجھ کر تباہ یا فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ اساتذہ کو بے گھر اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس کو درہم برہم کر دیا گیا ہے۔
پاکستانی مندوب کا مزید کہنا تھا کہ تنازعات والے علاقوں میں تعلیم کی یہ تباہی اتفاقیہ نہیں بلکہ اکثر منظم طریقے سے کی جاتی ہے، جس کا مقصد نسل در نسل صدمے کو منتقل کرنا اور تنازع کے چکر کو جاری رکھنا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ تعلیم میں طویل تعطل کے ایسے نتائج مرتب ہوتے ہیں جو موجودہ تنازع کے ختم ہونے کے بعد بھی کئی دہائیوں تک برقرار رہتے ہیں۔
