نیو یارک: تقریباً 15 ہزار ہڑتالی نرسز کی نمائندگی کرنے والی یونین اور تین بڑے اسپتال سسٹمز کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کئی دنوں کے وقفے کے بعد جمعرات کو دوبارہ شروع ہوں گے۔
نیو یارک اسٹیٹ نرسز ایسوسی ایشن (NYSNA) نے بدھ کی صبح اعلان کیا کہ گورنر کیتھی ہوکل اور میئر مامدانی کی مداخلت اور درخواست پر یونین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے پر آمادہ کیا گیا ہے۔ یہ مذاکرات اس لحاظ سے بھی اہم ہوں گے کہ پہلی بار تینوں اسپتال سسٹمز—مونٹیفیور، نیو یارک پریسبیٹیرین اور ماؤنٹ سائنائی—کے نمائندے ایک ساتھ نرسز یونین کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔
اس سے قبل ہونے والے مذاکرات میں نرسز یونین ہر اسپتال سسٹم سے الگ الگ یا بیک وقت دو سسٹمز کے ساتھ بات چیت کرتی رہی ہے، تاہم تمام فریقین کا ایک ساتھ مذاکرات میں شامل ہونا ایک نیا مرحلہ تصور کیا جا رہا ہے۔
نرسز یونین کا کہنا ہے کہ ہڑتال کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ نئے معاہدے میں نرسز کے موجودہ ہیلتھ انشورنس پیکجز میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے، اسپتالوں میں آن سائٹ سیکیورٹی میں اضافہ کیا جائے، اور نرسز کی تنخواہوں میں بہتری لائی جائے۔ دوسری جانب تینوں اسپتال سسٹمز کے ترجمانوں نے نرسز کے مطالبات کو “غیر معقول” قرار دیا ہے۔
بدھ کے روز نرسز کی ہڑتال کو دس دن مکمل ہو گئے، جو نیو یارک اسٹیٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی نرسز ہڑتال قرار دی جا رہی ہے۔ نیو یارک سٹی میں نرسز کی آخری ہڑتال 2023 میں ہوئی تھی، جو صرف تین دن جاری رہی تھی۔
