نیویارک: امریکہ بھر میں انفلوئنزا کی ایک نئی اور خطرناک قسم، جسے ‘سب کلیڈ K’ (Subclade K) یا ‘سپر فلو’ کا نام دیا جا رہا ہے، تیزی سے پھیل رہی ہے۔ نیویارک سٹی اس وقت اس وائرس کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے، جہاں کیسز میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، دسمبر کے پہلے ہفتے میں نیویارک میں تقریباً 14,000 فلو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد صرف 2,500 تھی، جس کا مطلب ہے کہ انفیکشن میں 460 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیویارک کی گنجان آبادی اور بین الاقوامی آمد و رفت اس تیزی سے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں
‘سب کلیڈ K’ (Subclade K) کیا ہے؟
جانز ہاپکنز بلومبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہر ڈاکٹر اینڈریو پیکوز کے مطابق یہ وائرس انفلوئنزا اے (H3N2) کی ایک نئی بدلی ہوئی شکل (Mutation) ہے۔
یہ وائرس گرمیوں میں نمودار ہوا اور جاپان، برطانیہ اور کینیڈا سمیت کئی ممالک میں پھیل چکا ہے۔
ماہرین کا انتباہ ہے کہ اگلے دو سے تین ماہ میں امریکہ کی ہر ریاست اس کی لپیٹ میں ہوگی۔
ڈاکٹروں کے مطابق ‘سب کلیڈ K’ کی علامات عام فلو سے ملتی جلتی ہیں لیکن یہ زیادہ شدید ہو سکتی ہیں۔ نمایاں علامات درج ذیل ہیں:
شدید بخار اور کھانسی
گلے میں سوزش اور ناک بند ہونا
جسم میں درد اور سر درد
شدید تھکن
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انفلوئنزا اے، انفلوئنزا بی کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے اور اس میں مریضوں کے ہسپتال داخل ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
بچاؤ کی تدابیر: ماہرین کا مشورہ
اگرچہ یہ نئی قسم موجودہ فلو ویکسین کے بننے کے بعد سامنے آئی ہے، لیکن ڈاکٹر اب بھی ویکسین لگوانے پر زور دے رہے ہیں۔ ہارٹ فورڈ ہسپتال کے ماہر ڈاکٹر الیسس وو کا کہنا ہے کہ ویکسین پیچیدگیوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
فلو اور کووڈ کی ویکسین فوری لگوائیں۔
ہجوم والی جگہوں پر ماسک کا استعمال کریں۔
ہاتھوں کو بار بار دھوئیں اور صفائی کا خیال رکھیں۔
بیمار ہونے کی صورت میں کم از کم 24 گھنٹے گھر پر رہیں اور دوسروں سے فاصلہ رکھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چھٹیوں کے سیزن اور خاندانی اجتماعات سے پہلے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ اس ‘سپر فلو’ کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
