عالمی وباؤں سے نمٹنے کیلئے مضبوط صحت کے نظام اور عالمی تعاون ناگزیر قرار

اگر مستقبل کی وباؤں پر بروقت بین الاقوامی توجہ نہ دی گئی تو ان کی شدت اور تباہی سابقہ وباؤں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے

Editor News

کورونا وائرس (کووڈ-19) کی وبا نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بڑی متعدی بیماریاں اور وبائیں انسانی جانوں، سماجی ڈھانچے اور معاشی ترقی پر تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہیں۔ عالمی صحت کے بحران پہلے سے دباؤ کا شکار صحت کے نظاموں کو مفلوج کر دیتے ہیں، عالمی سپلائی چین متاثر ہوتی ہے اور غریب و کمزور ممالک، بالخصوص خواتین اور بچوں کے روزگار اور معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

عالمی برادری نے اس امر پر زور دیا ہے کہ کمزور اور خطرے سے دوچار طبقات تک رسائی رکھنے والے مضبوط اور لچکدار صحت کے نظام قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مستقبل کی وباؤں پر بروقت بین الاقوامی توجہ نہ دی گئی تو ان کی شدت اور تباہی سابقہ وباؤں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

اس تناظر میں وباؤں سے بچاؤ اور مؤثر ردِعمل کے لیے آگاہی میں اضافہ، معلومات اور سائنسی علم کا تبادلہ، بہترین عملی تجربات، معیاری تعلیم اور مؤثر وکالت کے پروگرامز کو مقامی، قومی، علاقائی اور عالمی سطح پر فروغ دینا ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

بیان میں زور دیا گیا کہ وباؤں سے نمٹنے کے لیے ماضی کے تجربات سے سیکھتے ہوئے بنیادی خدمات کی بندش کو روکنا، تیاری کی سطح بلند کرنا اور کسی بھی ممکنہ وبا کے ابتدائی اور مؤثر ردِعمل کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ’’ون ہیلتھ‘‘ (One Health) کے مربوط طریقۂ کار کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے، جو انسانی صحت، حیوانی صحت، نباتاتی صحت اور ماحولیاتی شعبوں کے باہمی انضمام کو فروغ دیتا ہے۔

عالمی سطح پر وباؤں کے خلاف جدوجہد میں بین الاقوامی تعاون اور کثیرالجہتی نظام کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ ہر فرد، کمیونٹی، ریاست، علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان شراکت داری اور یکجہتی پر زور دیا گیا ہے، جبکہ وبائی انتظام کے تمام مراحل میں صنفی نقطۂ نظر کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے نظام، بالخصوص عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، کو وباؤں کے خلاف ردِعمل کو مربوط کرنے اور 2030 ایجنڈا کے اہداف کے تحت قومی، علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی معاونت میں مرکزی کردار ادا کرنے والا ادارہ قرار دیا گیا ہے۔

بیان میں حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری اور مختلف شراکت داروں، خصوصاً خواتین، کے ناگزیر کردار کو تسلیم کیا گیا ہے، کیونکہ دنیا بھر میں صحت کے شعبے میں کام کرنے والوں کی اکثریت خواتین پر مشتمل ہے۔

اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وباؤں کے دوران شمولیت، مساوات اور عدم امتیاز کو یقینی بنایا جائے گا، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔

مزید برآں، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے تمام رکن ممالک، اقوامِ متحدہ کے اداروں، علاقائی و ذیلی علاقائی تنظیموں، نجی شعبے، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر سال وبا سے تیاری کے عالمی دن کو اپنے قومی حالات اور ترجیحات کے مطابق تعلیم اور آگاہی کی سرگرمیوں کے ذریعے منائیں، تاکہ وباؤں کی روک تھام، تیاری اور شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *