اقوام متحدہ: عالمی جنگلاتی مصنوعات کے شعبے میں 2024 کے دوران بحالی

Editor News

روم (ویب ڈیسک):اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کی جانب سے بدھ کے روز جاری ایک نئی رپورٹ کے مطابق، عالمی جنگلاتی مصنوعات کے شعبے میں 2024 کے دوران نمایاں بحالی دیکھی گئی، جو اس سے ایک سال قبل شدید زوال کا شکار تھا۔

ایف اے او کے اعداد و شمار 77 مختلف مصنوعات، 27 پروڈکٹ گروپس اور 245 سے زائد ممالک اور خطوں پر محیط ہیں۔ رپورٹ میں جنگلاتی مصنوعات کے بڑے شعبوں سے متعلق پیداوار اور بین الاقوامی تجارت کے تازہ رجحانات پیش کیے گئے ہیں۔

ایف اے او کے مطابق لکڑی اور کاغذی مصنوعات کی عالمی تجارت میں دوبارہ تیزی آئی، جہاں بیشتر بڑی مصنوعات کے شعبوں میں معمولی مگر مثبت نمو ریکارڈ کی گئی۔ یہ بحالی 2023 میں لکڑی اور کاغذی مصنوعات کی عالمی تجارت میں مجموعی طور پر 14 فیصد کمی کے بعد سامنے آئی ہے۔

توانائی کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی لکڑی کی کٹائی (انڈسٹریل راؤنڈ ووڈ) میں 2024 کے دوران دو فیصد اضافہ ہوا، تاہم اس کی عالمی تجارت میں ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

لکڑی سے تیار ہونے والی مصنوعات جیسے تختے، شہتیر اور دیگر تیار شدہ لکڑی (ساون ووڈ) کی عالمی پیداوار تقریباً مستحکم رہی، اگرچہ مختلف خطوں میں اس میں فرق دیکھا گیا۔ ساون ووڈ کی عالمی تجارت میں 2023 کے مقابلے میں مجموعی طور پر کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔

لکڑی پر مبنی پینلز کی پیداوار میں مسلسل دوسرے سال اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں عالمی پیداوار میں پانچ فیصد اضافہ ہوا۔

لکڑی کے گودے (ووڈ پلپ) کی پیداوار میں تین فیصد اضافہ ہو کر 189 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جبکہ اس کی بین الاقوامی تجارت میں دو فیصد اضافہ ہوا اور یہ 73 ملین ٹن کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

ووڈ پیلٹس، جو گزشتہ دہائیوں میں خاص طور پر یورپ، جنوبی کوریا اور جاپان میں بایو انرجی اہداف کے باعث تیزی سے مقبول ہوئے، 2023 میں معمولی کمی کے بعد 2024 میں دوبارہ بڑھ کر 48 ملین ٹن تک پہنچ گئے، جو 2022 کی سطح کے برابر ہے۔

اہمیت اور اثرات
مختلف اقسام کے درخت رہائش، ایندھن، خوراک، ادویات، کپڑوں اور عمارتوں کی تعمیر میں استعمال ہوتے ہیں اور انسانی زندگی کے کئی پہلوؤں سے جڑے ہیں۔

ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل ڈونگیو کو نے کہا کہ“دنیا بھر میں لاکھوں افراد کا روزگار جنگلات سے وابستہ ہے، اور یہ تعداد مزید بڑھنے کی توقع ہے کیونکہ جنگلات پائیدار لکڑی کی پیداوار سمیت کئی صنعتوں میں معاشی مواقع فراہم کر رہے ہیں۔”

جنگلات کے پائیدار استعمال کا فروغ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 15 کا بھی حصہ ہے، جس پر دنیا کے ممالک نے اتفاق کر رکھا ہے۔

ایف اے او کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، 1990 کی دہائی کے بعد سے جنگلات کے رقبے میں خالص کمی نصف سے بھی کم ہو چکی ہے، جبکہ دنیا کے 90 فیصد سے زائد جنگلات قدرتی طور پر دوبارہ نشوونما پا رہے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *