PM Shehbaz Sharif Arrives in Washington for Board of Peace Summit

وزیراعظم شہباز شریف اس سیشن سے خطاب کریں گے اور امریکی قیادت سمیت دیگر ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

Editor News

واشنگٹن(ویب ڈیسک): وزیراعظم شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ’بورڈ آف پیس‘ (Board of Peace) کے پہلے باضابطہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔

یہ اعلیٰ سطح کا اجلاس ’ڈونلڈ جے ٹرمپ یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس‘ میں منعقد ہو رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ اور تنازع کے بعد کی تعمیرِ نو کی نگرانی کرنا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اس سیشن سے خطاب کریں گے اور امریکی قیادت سمیت دیگر ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ اس اجلاس میں سعودی عرب، انڈونیشیا اور آذربائیجان سمیت 45 سے زائد ممالک کے نمائندے شریک ہیں، جسے حالیہ مہینوں میں غزہ کے حوالے سے اہم ترین سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ کانفرنس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور شدہ امریکی جنگ بندی منصوبے کے تین ماہ بعد ہو رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ’بورڈ آف پیس‘ کو دو سال کے لیے غزہ کی غیر فوجی سازی (demilitarization) اور تعمیرِ نو کی نگرانی کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔

اگرچہ جنگ بندی اب بھی نازک صورتحال کا شکار ہے، تاہم معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج مخصوص ’یلو لائن‘ (Yellow Line) کے پیچھے ہٹ چکی ہیں، اگرچہ اب بھی وہ آدھے سے زیادہ علاقے پر قابض ہیں۔ حماس کی غیر مسلح سازی، اسرائیلی فوج کا مکمل انخلاء اور انسانی امداد کی فراہمی جیسے مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اجلاس سے قبل اعلان کیا ہے کہ بورڈ کے ممبران نے تعمیرِ نو کے لیے 5 ارب ڈالر کے عطیات کا عہد کیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق دو سالہ جنگ سے تباہ حال غزہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے تقریباً 70 ارب ڈالر کی خطیر رقم درکار ہے۔

اجلاس میں 47 ممالک کے وفود شریک ہیں، تاہم برطانیہ، جرمنی اور فرانس جیسے اہم یورپی اتحادیوں نے اس میں شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ یورپی یونین نے بھی بورڈ میں نشست لینے کے بجائے صرف مبصرین بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، بورڈ میں اسرائیل کو تو نشست دی گئی ہے لیکن کسی فلسطینی نمائندے کی عدم موجودگی نے سفارتی حلقوں میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے۔ امریکہ نے خطے میں اپنے جدید ترین F-35 اور F-22 جنگی طیارے تعینات کر دیے ہیں۔ دوسری جانب روس اور ایران نے خلیج عمان میں مشترکہ بحری مشقیں کی ہیں، جس سے خطے میں دفاعی گہما گہمی مزید بڑھ گئی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *