تحریر: شمائلہ
نیویارک: نیویارک کے علاقے لانگ آئی لینڈ کی ایک ٹھنڈی شام، ڈاکٹر بننےکاخواب سجائے21 سالہ نافیہ اکرام جس کی آنکھوں میں دوسروں کا درد بانٹنے اور ایک بہترین ڈاکٹر بننے کی چمک تھی۔ لیکن اس رات، اس چمک کو بجھانے کی ایک بزدلانہ کوشش کی گئی۔
ایک نامعلوم شخص نے اس کے روشن چہرے پر تیزاب پھینکا اور فرار ہو گیا۔ لمحوں میں، نافیہ کی دنیا بدل گئی۔ وہ درد جو اس نے محسوس کیا، اسے لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے۔

ہسپتال کے سفید بستر پر لیٹی نافیہ کے پاس دو راستے تھے یا تو وہ اس اندھیرے کے سامنے ہار مان لے جو اس پر تھونپا گیا تھا، یا پھر اس درد کو اپنی طاقت بنا لے۔ اس کے والدین، خاص طور پر اس کے والد شیخ اکرام، اس کے لیے ہمت کی دیوار بن گئے۔ جب دنیا اس اندوہناک واقعے پر آنسو بہا رہی تھی، نافیہ نے فیصلہ کیا کہ وہ ‘مظلوم’ (Victim) نہیں بلکہ ‘فاتح’ (Survivor) کہلائے گی۔

نافیہ کو درجنوں سرجریوں اور ناقابلِ بیان جسمانی تکلیف سے گزرنا پڑا۔ لیکن ہر سرجری کے بعد جب وہ اپنی پٹیوں سے باہر دیکھتی، اس کا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتا۔ اس نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا، دوبارہ جینا سیکھا اور سب سے بڑھ کر—دوبارہ مسکرانا سیکھا۔
اس کی کہانی نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ ایک معصوم لڑکی کا چہرہ تو بدلا جا سکتا ہے، لیکن اس کی ہمت اور دوسروں کی خدمت کرنے کا جذبہ نہیں چھینا جا سکتا۔
پانچ سال کا طویل عرصہ گزر گیا۔ جہاں بہت سے لوگ امید چھوڑ چکے تھے، وہیں نافیہ اور اس کے خاندان نے انصاف کا دامن نہیں چھوڑا تھا۔ آج، جب اس واقعے میں ملوث مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے، یہ صرف قانون کی جیت نہیں بلکہ نافیہ کے صبر اور استقامت کی جیت ہے۔

نافیہ اکرام کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوتا ہے، یہ آپ کے اختیار میں نہیں، لیکن آپ اس کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، یہ آپ کی پہچان بناتا ہے۔
انصاف میں دیر ہو سکتی ہے، لیکن سچ کبھی شکست نہیں کھاتا۔
اصلی خوبصورتی آپ کی صورت میں نہیں بلکہ آپ کے کردار اور آپ کے حوصلے میں چھپی ہوتی ہے۔
آج نافیہ صرف ایک میڈیکل اسٹوڈنٹ نہیں، بلکہ وہ ان لاکھوں لوگوں کے لیے ہمت کا نشان ہے جو زندگی کی تلخیوں سے ہار ماننے لگتے ہیں۔
