ڈھاکہ (رائٹرز): سابقہ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے 15 سالہ دورِ اقتدار کے خاتمے کے بعد، بنگلہ دیش میں جمعرات (12 فروری) کو ہونے والے عام انتخابات نے ملک کی سیاسی فضا بدل دی ہے۔
ماضی کے برعکس، جہاں اپوزیشن سڑکوں سے غائب تھی، اب عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے اور میدانِ عمل میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) اور جماعتِ اسلامی ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔
نئی سیاسی صف بندیاں اور Gen-Z کا کردار
2024 کی عوامی تحریک کے نتیجے میں حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلا مسابقتی انتخاب قرار دیا جا رہا ہے۔ اس بار نوجوان نسل (Gen-Z)، جو کل ووٹرز کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے، کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ نوجوانوں کی ایک نئی پارٹی نے انتخابی میدان میں جماعتِ اسلامی کے ساتھ اتحاد کر لیا ہے، جس سے مقابلہ مزید دلچسپ ہو گیا ہے۔
پارٹی کے سربراہ طارق رحمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ان کی جماعت 300 میں سے 292 نشستوں پر الیکشن لڑ رہی ہے اور انہیں حکومت سازی کے لیے واضح اکثریت کی امید ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق، جماعتِ اسلامی اس بار اپنی تاریخ کی بہترین کارکردگی دکھا سکتی ہے۔ بدعنوانی سے پاک امیج اور بہتر طرزِ حکمرانی کے وعدوں نے اسے ووٹرز میں مقبول بنایا ہے۔
یہ انتخابات نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ بھارت اور چین کے لیے بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ شیخ حسینہ کی بھارت روانگی کے بعد ڈھاکہ میں نئی دہلی کا اثر و رسوخ کم ہوا ہے جبکہ بیجنگ کے قدم جمتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بی این پی بھارت کے ساتھ متوازن تعلقات کی حامی ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی کا جھکاؤ پاکستان کی جانب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
175 ملین آبادی والے اس ملک میں ووٹرز کے لیے سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور مہنگائی ہے۔ نوجوان ووٹرز، جیسے کہ 21 سالہ محمد راقب، امید کر رہے ہیں کہ نئی حکومت آزادیِ اظہارِ رائے اور شفاف جمہوری عمل کو یقینی بنائے گی۔
