مکہ مکرمہ میں جدیدشہری انقلاب:’وژن2030’کےاہداف کی جانب بڑی پیش رفت

سعودی وژن 2030 کے تحت مکہ میں ثقافتی، تعلیمی اور تفریحی منصوبوں کے ذریعے زائرین کے تجربے کو یادگار اور مقامی آبادی کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔

Editor News

مکہ مکرمہ (ویب ڈیسک): اسلام کا مقدس ترین شہر، مکہ مکرمہ، اس وقت ایک ایسی کیفیاتی تبدیلی سے گزر رہا ہے جہاں اس کی روحانی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک جدید اور متحرک شہر کے طور پر ڈھالا جا رہا ہے۔

سعودی وژن 2030 کے تحت مکہ میں ثقافتی، تعلیمی اور تفریحی منصوبوں کے ذریعے زائرین کے تجربے کو یادگار اور مقامی آبادی کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔

حالیہ مکہ ونٹر سیزن نے اس تبدیلی کی کامیابی پر مہر ثبت کر دی ہے۔ اس ایونٹ میں تقریباً 4 لاکھ افراد نے شرکت کی، جن میں سے 60 فیصد سے زائد مقامی شہری تھے۔

اس سیزن کی بدولت تفریحی مقامات پر آمد و رفت میں 35 فیصد اضافہ ہوا اور مقامی نوجوانوں کے لیے 1200 سے زائد عارضی ملازمتیں پیدا ہوئیں۔

جبلِ نور (غارِ حرا) کے قریب واقع ‘حرا کلچرل ڈسٹرکٹ’ اسلامی تاریخ اور جدید شناخت کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ جنوری 2023 میں کھلنے والے اس مرکز میں اب تک:

دستکاری کے پروگرام میں 100 سے زائد ہنرمندوں نے حصہ لیا۔

لائیو ورکشاپس کے ذریعے زائرین کو مقامی ثقافت سے براہِ راست جوڑا گیا۔

کرافٹ سیلز کے ذریعے تقریباً 30 لاکھ سعودی ریال کا کاروبار ہوا۔

جدید ٹیکنالوجی اور کثیر لسانی مواد سے آراستہ ‘نمائشِ وحی’ (Revelation Exhibition) جیسے منصوبے زائرین کو ایک متاثر کن تجربہ فراہم کر رہے ہیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں:

تاریخی مقامات پر زائرین کی سالانہ تعداد 16 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

عمرہ زائرین اور حجاج کے قیام کی اوسط مدت میں 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مکہ مکرمہ اپنی مذہبی وراثت اور جدید ترقی کے درمیان ہم آہنگی پیدا کر کے ثابت کر رہا ہے کہ وہ اپنے ماضی کا احترام کرتے ہوئے مستقبل کی آغوش میں بڑھ رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *