نیویارک: نیویارک سٹی کے سوشلسٹ میئر ظہران ممدانی نے وفاقی امیگریشن حکام (ICE) کو “سرکش ایجنسی” قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سخت تنقید کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے شہر کی ‘سنیچری سٹی’ (Sanctuary City) کی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں،
نیویارک پبلک لائبریری میں منعقدہ سالانہ ‘انٹرفیتھ بریک فاسٹ’ سے خطاب کرتے ہوئے میئر نے ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بائبل کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:”نقاب پوش ایجنٹ ہمارے ہی ٹیکس کے پیسوں سے آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور ہمارے پڑوسیوں پر خوف طاری کر رہے ہیں۔ وہ تباہی کا راستہ چھوڑ کر جاتے ہیں، یہ طاقت کا بدترین غلط استعمال ہے۔”
ایگزیکٹو آرڈر کے اہم نکات
میئر نے اعلان کیا کہ ان کے نئے حکم نامے کے بعد:
آئس (ICE) کے ایجنٹ نیویارک سٹی کی کسی بھی پراپرٹی، بشمول اسکولوں، پناہ گاہوں (Shelters) اور ہسپتالوں میں عدالتی وارنٹ کے بغیر داخل نہیں ہو سکیں گے۔
تمام شہری ایجنسیوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ آڈٹ کریں تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ امیگریشن قوانین پر مکمل عمل کر رہی ہیں۔
شہر کے ملازمین کو ‘سنیچری سٹی’ قوانین کے بارے میں خصوصی تربیت دی جائے گی۔
میئر کے اس اقدام کو ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ نیویارک میں یہ قوانین پہلے ہی موجود ہیں کہ بغیر وارنٹ کے وفاقی ایجنٹ داخل نہیں ہو سکتے۔
کونسل کے ریپبلکن لیڈر ڈیوڈ کار نے کہا کہ اس طرح کے “جعلی ایگزیکٹو آرڈر” سے صرف ٹرمپ انتظامیہ کی توجہ بلاوجہ نیویارک کی طرف مبذول ہوگی، جس کی اس وقت ضرورت نہیں ہے۔
آرڈر کے ذریعے بنائی گئی ‘کرائسز رسپانس کونسل’ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ کام پہلے ہی آفس آف ایمرجنسی مینجمنٹ کی 200 رکنی ٹیم کر رہی ہے۔
نیویارک طویل عرصے سے ایک ‘سنیچری سٹی’ رہا ہے جہاں مقامی پولیس اور انتظامیہ وفاقی امیگریشن حکام کے ساتھ غیر دستاویزی تارکینِ وطن کی ملک بدری میں تعاون نہیں کرتی۔ میئر ممدانی کا یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر ملک بدری (Mass Deportations) کے اعلانات کے جواب میں دیکھا جا رہا ہے۔
