شدیدسردی سے17 ہلاکتیں،میئرممدانی کابےگھرافرادکو زبردستی ہٹانے سے انکار

اس فیصلے پر سیاسی حلقوں اور سماجی ماہرین کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے

Editor News
Former National Security adviser Mike Waltz, nominated to be U.S. ambassador to the United Nations, testifies before a Senate Foreign Relations Committee confirmation hearing on Capitol Hill in Washington, D.C., U.S., July 15, 2025. REUTERS/Ken Cedeno

نیویارک: نیویارک سٹی میں اس ویک اینڈ پر متوقع “خطرناک حد تک کم درجہ حرارت” اور برفانی ہواؤں کے باوجود میئر ظہران ممدانی نے بے گھر افراد کے کیمپوں کو ختم کرنے اور لوگوں کو زبردستی سڑکوں سے ہٹانے سے انکار کر دیا ہے۔ اس فیصلے پر سیاسی حلقوں اور سماجی ماہرین کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

جمعہ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران میئر ممدانی نے بے گھر نیویارکرز سے صرف “اندر آنے” کی التجا کی۔ انہوں نے کہا:”میں براہ راست ان لوگوں سے بات کرنا چاہتا ہوں جو سڑکوں پر زیادہ آرام دہ محسوس کرتے ہیں: میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ براہ کرم اندر (شیلٹرز میں) آ جائیں۔”

میئر نے واضح کیا کہ وہ لوگوں کو زبردستی ہٹانے کو “آخری حربے” کے طور پر دیکھتے ہیں، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ جن لوگوں کے پاس سردی کے لحاظ سے “مناسب لباس” نہیں تھا، انہیں سڑکوں سے ہٹایا گیا ہے۔

سٹی ہال کے حکام کے مطابق 24 جنوری سے اب تک نیویارک میں سردی کی وجہ سے کم از کم 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں:

13 اموات ہائپوتھرمیا (شدید سردی) کے باعث ہوئیں جبکہ 3 اموات منشیات کی زیادتی (اوور ڈوز) سے ہوئیں۔

رواں سال کی ہلاکتیں 2010 سے 2019 کے دوران (سوائے 2018 کے) ہر سال ہونے والی کل ہلاکتوں سے تجاوز کر گئی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہفتے کے روز درجہ حرارت 4 ڈگری تک گر جائے گا، لیکن 40 سے 50 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کی وجہ سے سردی کی شدت منفی 20 ڈگری محسوس ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موسم میں آدھے گھنٹے سے زیادہ باہر رہنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

سٹی کونسل کے رکن اوسوالڈ فیلز اور دیگر ناقدین نے میئر کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ جب لوگ سردی میں مر رہے ہیں تو انتظامیہ انہیں زبردستی محفوظ مقامات پر منتقل کیوں نہیں کر رہی؟

شہریوں نے شکایت کی ہے کہ جب وہ کسی بے گھر شخص کی مدد کے لیے کال کرتے ہیں تو آپریٹرز مدد بھیجنے کے بجائے کپڑوں کی تفصیلات جیسے غیر ضروری سوالات پوچھتے ہیں، جس سے وقت ضائع ہوتا ہے۔

حکومتی اقدامات
میئر ممدانی نے بتایا کہ 19 جنوری سے اب تک “کوڈ بلیو” کے تحت:

1,100 سے زائد بے گھر افراد کو شیلٹرز میں منتقل کیا گیا ہے۔

صرف 20 افراد کو ان کی مرضی کے خلاف سڑکوں سے ہٹایا گیا ہے۔

شہر میں 20 موبائل وارمنگ سائٹس کا اضافہ کیا گیا ہے۔

منگل کے روز سٹی کونسل کی کمیٹیوں کا ایک مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں شہر میں “کوڈ بلیو” آپریشنز اور بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *