سیئول (ویب ڈیسک): سام سنگ نے اپنی مقبول ترین اسمارٹ فون سیریز ‘گلیکسی ایس 21’ (Galaxy S21) کے لیے تمام تر سافٹ ویئر اور سیکیورٹی سپورٹ ختم کرنے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد لاکھوں صارفین کی ڈیوائسز اب ہیکرز کے لیے تر نوالہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
سپورٹ کے خاتمے کی تفصیلات غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سام سنگ نے اپنے آفیشل سیکیورٹی ویب پیج سے گلیکسی ایس 21، ایس 21 پلس، اور ایس 21 الٹرا کے نام فہرست سے نکال دیے ہیں۔ یاد رہے کہ 2021 میں لانچنگ کے وقت کمپنی نے وعدہ کیا تھا کہ ان فونز کو 4 سال تک اینڈرائیڈ اپ گریڈ اور 5 سال تک سیکیورٹی اپ ڈیٹس فراہم کی جائیں گی، اور اب یہ مدت مکمل ہو چکی ہے۔
صارفین پر ہونے والے اثرات اپ ڈیٹس کی بندش سے صارفین کو درج ذیل بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے:
سیکیورٹی رسک: اب ان فونز کو کوئی نیا سیکیورٹی پیچ موصول نہیں ہوگا، جس کی وجہ سے ہیکرز اور جعلساز پرانے سافٹ ویئر کی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
فون کو اینڈرائیڈ کے نئے ورژنز یا سام سنگ کے نئے فیچرز نہیں ملیں گے، جس سے فون کی کارکردگی وقت کے ساتھ ماند پڑ جائے گی۔
کچھ عرصہ گزرنے کے بعد معروف ایپلی کیشنز (جیسے بینکنگ ایپس یا سوشل میڈیا) پرانے سافٹ ویئر کو سپورٹ کرنا بند کر دیتی ہیں، جس سے فون کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔
ماہرین کا مشورہ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ صارفین جو تاحال ایس 21 سیریز استعمال کر رہے ہیں، انہیں اب اپنی ڈیجیٹل سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے نئی اور اپ ڈیٹڈ ڈیوائسز پر منتقل ہونے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
