نیویارک: شہر میں جاری حالیہ شدید سردی کی لہر (Cold Front) کے باعث اب تک 14 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
سٹی حکام کے مطابق، ہفتے کے روز درجہ حرارت منفی 16 ڈگری سینٹی گریڈ (2 ڈگری فارن ہائیٹ) تک گرنے کے بعد ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوا۔
میئر آفس کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق، ان 14 میں سے کم از کم 8 اموات کی بنیادی وجہ ‘ہائپوتھرمیا’ (جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک گر جانا) قرار دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ نیویارک شہر میں عام طور پر پورے سال میں سردی سے متعلق تقریباً 15 اموات ریکارڈ کی جاتی ہیں، لیکن اس بار محض ایک سرد لہر کے دوران ہی یہ تعداد 14 تک پہنچ گئی ہے، جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔
کوڈ بلیو (Code Blue) الرٹ: شہر میں ‘کوڈ بلیو’ نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت تمام پناہ گاہیں (Shelters) ہر اس شخص کو داخلہ دینے کی پابند ہیں جسے سردی سے بچنے کے لیے چھت کی ضرورت ہو۔ اس دوران عام داخلے کے سخت قواعد و ضوابط کو معطل کر دیا گیا ہے۔
میئر زوہران ممدانی نے ہفتے کے روز بتایا کہ شہریوں کو بچانے کی کوششوں کے تحت انتظامیہ نے اب تک 16 افراد کو ان کی مرضی کے خلاف سڑکوں سے محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کیا ہے تاکہ انہیں جم کر ہلاک ہونے سے بچایا جا سکے۔
حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ شدید سردی میں باہر نکلنے سے گریز کریں اور اگر سڑک پر کوئی شخص بے یار و مددگار نظر آئے تو فوری طور پر متعلقہ اداروں کو مطلع کریں تاکہ اسے محفوظ مقام پر پہنچایا جا سکے۔
