ٹیرنٹ کاؤنٹی، ٹیکساس: ٹیکساس اسٹیٹ سینٹ کے لیے ہونے والے حالیہ خصوصی انتخاب (Special Election) میں ڈیموکریٹ امیدوار نے دوہرے ہندسے (Double-digit) کے فرق سے کامیابی حاصل کر کے کئی دہائیوں سے ریپبلکنز کے قبضے والی نشست چھین لی۔ مبصرین اسے نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کے لیے ایک بڑا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
یونین مشینی اور امریکی فضائیہ کے تجربہ کار اہلکار، ڈیموکریٹ امیدوار ٹیلر رہمت (Taylor Rehmet) نے قدامت پسند علاقے ٹیرنٹ کاؤنٹی میں ریپبلکن کارکن لیہ ویمبزگنز (Leigh Wambsganss) کو 14 فیصد سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ یاد رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس نشست کے لیے ریپبلکن امیدوار کی بھرپور حمایت کی تھی۔
شکست خوردہ امیدوار لیہ ویمبزگنز نے اتوار کو اپنے بیان میں رہمت کو مبارکباد دیتے ہوئے اس نتیجے کو مقامی اور قومی ریپبلکنز کے لیے ایک “ویک اپ کال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس پرجوش تھے جبکہ بہت سے ریپبلکن ووٹرز گھروں سے نہیں نکلے۔ انہوں نے ووٹرز کے کم ٹرن آؤٹ کی وجہ ہفتے کے آخر میں آنے والے طوفان کو قرار دیا۔
ہفتے کے روز ویمبزگنز کو “حقیقی میگا (MAGA) واریر” قرار دینے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اس شکست سے دوری اختیار کرتے ہوئے اسے “مقامی ٹیکساس ریس” قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا، “میں بیلٹ پر نہیں تھا، اس لیے آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ نتائج (قومی سیاست پر) اثر انداز ہوں گے۔”
ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے چیئرمین کین مارٹن نے اسے پارٹی کی بڑھتی ہوئی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس اپنی کارکردگی میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ یہ جیت نیو جرسی، ورجینیا، کینٹکی اور آئیووا میں ڈیموکریٹس کی حالیہ فتوحات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔
ایوان میں صورتحال: ٹیلر رہمت کی جیت اور ایک اور ڈیموکریٹ، کرسچن مینیفی کی کامیابی کے بعد امریکی ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) میں ریپبلکنز کی معمولی اکثریت مزید سکڑ جائے گی۔ نومبر 2026 کے مڈ ٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کانگریس کے دونوں ایوانوں میں دوبارہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے پرامید ہیں۔
ڈیموکریٹک اسٹریٹجسٹ کا کہنا ہے کہ یہ جیت ٹرمپ کی پیدا کردہ صورتحال کو مسترد کرنے کی علامت ہے اور پارٹی کو اب مہنگائی اور عوامی مسائل پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔
