امریکہ میں ایک بار پھر ‘شٹ ڈاؤن’ کا خطرہ: امیگریشن پالیسی پر سیاسی تعطل سنگین

ریپبلکنز کو سینیٹ میں بل منظور کروانے کے لیے 100 میں سے 60 ووٹوں کی ضرورت ہے

Editor News

واشنگٹن(ویب ڈیسک): امریکہ ایک بار پھر حکومتی شٹ ڈاؤن (Government Shutdown) کے دہانے پر پہنچ گیا ہے، جہاں کانگریس کی جانب سے فنڈنگ بل منظور نہ ہونے کی صورت میں وفاقی اداروں کی بندش کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منی پولس میں فیڈرل ایجنٹس کے ہاتھوں امریکی شہری ایلکس پریٹی (Alex Pretti) کی ہلاکت کے بعد عوامی غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس سے قبل جنوری کے آغاز میں ایک اور امریکی خاتون رینی نیکول گڈ بھی آئی سی ای (ICE) ایجنٹ کی گولی کا نشانہ بن چکی ہیں۔

ڈیموکریٹس کا سخت مؤقف: ڈیموکریٹک سینیٹرز نے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی (DHS) کے لیے کسی بھی قسم کے اضافی فنڈز کی منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے، جب تک کہ امیگریشن ایجنسیوں کے لیے طاقت کے استعمال سے متعلق سخت قواعد و ضوابط (Guardrails) وضع نہیں کیے جاتے۔

موجودہ بل میں 1.2 ٹریلین ڈالر کا پیکیج شامل ہے، جس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے لیے 770 ملین ڈالر کے اضافی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

ریپبلکنز کو سینیٹ میں بل منظور کروانے کے لیے 100 میں سے 60 ووٹوں کی ضرورت ہے، جبکہ ان کے پاس 53 نشستیں ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں کم از کم 7 ڈیموکریٹک ارکان کی حمایت درکار ہے۔

سینیٹ کے پاس جمعہ کی آدھی رات (پاکستانی وقت کے مطابق ہفتہ کی صبح 5:00 بجے) تک کا وقت ہے، جس کے بعد فنڈز کی کمی کے باعث غیر ضروری وفاقی خدمات معطل ہو جائیں گی۔

ڈیموکریٹک ارکان کا مطالبہ ہے کہ:

امیگریشن ایجنٹس کے لیے وارنٹ کے بغیر گرفتاریوں پر پابندی لگائی جائے۔

ایجنٹس کے لیے شناخت ظاہر کرنا اور باڈی کیمرے پہننا لازمی قرار دیا جائے۔

طاقت کے استعمال کی تحقیقات میں مقامی حکام کو شامل کیا جائے۔

سینیٹ ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر کا بیان: “آئی سی ای کی بدسلوکی اور انتظامیہ کی لاپروائی کے تناظر میں، سینیٹ ڈیموکریٹس اس وقت تک بجٹ پاس نہیں کریں گے جب تک اس میں اصلاحات شامل نہیں کی جاتیں۔”

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *