پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے انڈس واٹرز ٹریٹی (IWT) کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے فیصلے نے پاکستان کی آبی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے ایک بے مثال بحران پیدا کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عثمان جادون نے اس اقدام کو “پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے” کی دانستہ کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی کارروائیاں 1960 کے تاریخی معاہدے کی سنگین اور مادی خلاف ورزیوں کے مترادف ہیں۔
کینیڈا اور اقوام متحدہ یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقدہ گلوبل واٹر بینکرپسی پالیسی راؤنڈ ٹیبل سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عثمان جادون نے کہا کہ گزشتہ سال اپریل سے بھارت نے معاہدے کی متعدد سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں، جن میں زیریں دھارے میں پانی کے بہاؤ میں بغیر اطلاع رکاوٹیں ڈالنا اور اہم ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا روکنا شامل ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ “پاکستان کا مؤقف غیر مبہم ہے؛ انڈس واٹرز ٹریٹی بدستور قانونی طور پر برقرار ہے اور اس میں کسی بھی فریق کو یکطرفہ طور پر معطل یا ترمیم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔”
سفیر جادون نے کہا کہ گزشتہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے انڈس واٹرز ٹریٹی دریائے سندھ کے طاس میں منصفانہ اور قابلِ پیش گوئی پانی کے انتظام کے لیے ایک آزمودہ فریم ورک فراہم کر رہا ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے مربوط آبپاشی نظاموں میں سے ایک کو سہارا دیتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ کا طاس پاکستان کی زرعی ضروریات کے لیے 80 فیصد سے زائد پانی فراہم کرتا ہے اور 24 کروڑ سے زائد افراد کی زندگیوں اور روزگار کا انحصار اسی پر ہے۔
سفیر عثمان جادون نے کہا کہ پانی کی عدم تحفظ اب عالمی سطح پر ایک نظامی خطرہ بن چکا ہے، جو خوراک کی پیداوار، توانائی کے نظام، عوامی صحت، معاش اور انسانی سلامتی کو متاثر کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا، “پاکستان کے لیے یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔” ان کے مطابق پاکستان ایک نیم خشک، موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ، زیریں دھارے کا ملک ہے، جسے سیلاب، خشک سالی، گلیشیئرز کے تیز پگھلاؤ، زیرِ زمین پانی کی کمی اور تیزی سے بڑھتی آبادی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جو پہلے سے دباؤ کا شکار آبی نظام پر مزید بوجھ ڈال رہے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک مربوط منصوبہ بندی، سیلابی تحفظ، آبپاشی نظام کی بحالی، زیرِ زمین پانی کی ریچارجنگ اور ماحولیاتی نظام کی بحالی کے ذریعے آبی لچک میں اضافہ کر رہا ہے۔
انہوں نے ‘لیونگ انڈس’ اور ‘ریچارج پاکستان’ جیسے منصوبوں کو اہم قومی اقدامات قرار دیا، تاہم اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ دریائی نظاموں میں پانی کے نظامی خطرات سے کوئی بھی ملک تنہا نمٹ نہیں سکتا۔
سفیر جادون نے کہا کہ سرحد پار پانی کے انتظام میں پیش گوئی، شفافیت اور تعاون زیریں دھارے کی آبادیوں کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔
انہوں نے 2026 کی اقوام متحدہ کی واٹر کانفرنس سے قبل پانی کی عدم تحفظ کو باضابطہ طور پر ایک عالمی نظامی خطرہ تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی آبی قوانین کا احترام اور تعاون کو مشترکہ آبی حکمرانی کا مرکزی ستون بنایا جانا چاہیے، تاکہ کمزور زیریں دھارے کی برادریوں کو حقیقی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
