واشنگٹن ڈی سی(ویب ڈیسک): امریکہ کو اس وقت ایک “تباہ کن” اور تاریخی برفانی طوفان ‘فرن’ کا سامنا ہے، جس کے باعث ملک بھر میں نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت اس “تباہ کن” صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
قومی موسمیاتی سروس (NWS) کے مطابق، یہ طوفان ٹیکساس سے لے کر کیرولائنا اور پھر مشرقی ساحل تک پھیلا ہوا ہے، جس سے تقریباً 23 کروڑ 50 لاکھ افراد متاثر ہو رہے ہیں۔
اب تک 18 ریاستوں بشمول نیویارک، نیو جرسی، ٹیکساس اور ورجینیا میں ہنگامی حالت (State of Emergency) نافذ کر دی گئی ہے۔
نیویارک شہر میں درجہ حرارت منفی 10 ڈگری تک گرنے اور 16 انچ تک برف باری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنے پیغام میں شہریوں کو محفوظ اور گرم رہنے کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا:
“مجھے اس ریکارڈ توڑ سرد لہر اور تاریخی برفانی طوفان کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ مقامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور فیما (FEMA) کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار ہے۔”
فیما (FEMA) کی تیاریاں:
30 سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں اسٹینڈ بائی پر ہیں۔
70 لاکھ سے زائد کھانے کے پیکٹ، 6 لاکھ کمبل اور 300 جنریٹر متاثرہ علاقوں میں پہنچا دیے گئے ہیں۔
برفانی طوفان نے فضائی اور زمینی سفر کو شدید متاثر کیا ہے:
ہفتے اور اتوار کے دوران 9,000 سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں۔ ایئر انڈیا سمیت کئی بین الاقوامی ایئر لائنز نے نیویارک کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔
ٹیکساس میں شدید برف باری کے باعث تقریباً 17,000 صارفین بجلی سے محروم ہیں۔
حکام نے ڈرائیوروں کو خبردار کیا ہے کہ حدِ نگاہ انتہائی کم ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر سفر کرنا ناممکن ہو سکتا ہے، لہٰذا گھروں کے اندر رہیں۔
نیویارک میں اتوار کی صبح سے شدید برف باری شروع ہونے کی توقع ہے۔ میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی (MTA) نے ٹرینوں اور بسوں کا شیڈول تبدیل کر دیا ہے، جبکہ ایئرپورٹ حکام پھنسے ہوئے مسافروں کی امداد کے لیے کوشاں ہیں۔
