نیویارک: اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ ایک ہزار دن سے زائد عرصے سے جاری تنازع کے باعث سوڈان کا تعلیمی نظام سنگین بحران کا شکار ہو چکا ہے، جہاں اس وقت اندازاً 80 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ انتباہ 24 جنوری کو منائے جانے والے عالمی یومِ تعلیم سے قبل جاری کیا گیا ہے۔
یونیسف کی سوڈان سے متعلق ترجمان، ایوا ہِنڈز کے مطابق ملک میں ہر تین میں سے ایک اسکول کو نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ ملک بھر میں تقریباً 6,400 اسکول بند ہیں، جبکہ مجموعی طور پر اسکول کی عمارتوں کا تقریباً نصف حصہ اب بطور تعلیمی ادارہ کام نہیں کر رہا۔ ان میں سے بہت سی عمارتیں بے گھر ہونے والے افراد کے لیے پناہ گاہوں میں تبدیل کر دی گئی ہیں۔
طویل عرصے تک تعلیم سے محرومی بچوں کو چائلڈ لیبر، استحصال اور کم عمری کی شادی جیسے سنگین خطرات سے دوچار کر رہی ہے، خاص طور پر لڑکیوں کے لیے یہ خطرات کہیں زیادہ ہیں۔
ایوا ہِنڈز نے چاڈ کے دارالحکومت نجامینا سے، دارفور کے 10 روزہ دورے کے بعد، اقوامِ متحدہ کی نیوز سروس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کو تعلیم سے محروم رکھنا پورے ایک نسل کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور یہ صورتحال آنے والے کئی عشروں تک سوڈان کی بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
