کیلیفورنیا(ویب ڈیسک): سوشل میڈیا کے منفی اثرات اور ذہنی صحت سے متعلق مقدمہ طے پانے کے دو روز بعد، اسنیپ چیٹ کی مالک کمپنی اسنیپ نے والدین کے لیے نئے کنٹرولز متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
ان نئے فیچرز کے تحت والدین اور سرپرست اب اسنیپ چیٹ کے فیملی سینٹر ٹول کے ذریعے یہ دیکھ سکیں گے کہ ان کے بچے پلیٹ فارم پر کتنا وقت گزار رہے ہیں، اور وہ کن نئے دوستوں کو شامل کر رہے ہیں۔
ان اضافی سہولیات کے ذریعے اسنیپ بظاہر ریگولیٹرز اور والدین کے ان خدشات کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو پلیٹ فارم پر بچوں کی حفاظت اور اسکرین ٹائم سے متعلق ہیں۔
نئے فیچرز کے مطابق والدین اب یہ جان سکیں گے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ان کے بچے نے روزانہ اوسطاً کتنا وقت اسنیپ چیٹ پر گزارا۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ یہ وقت ایپ کے کن حصوں میں صرف ہوا، جن میں چیٹنگ، اسنیپس بھیجنا، کیمرے کے ذریعے تخلیقی سرگرمیاں، اسنیپ میپ کا استعمال، یا اسپاٹ لائٹ اور اسٹوریز دیکھنا شامل ہے۔
اگرچہ فیملی سینٹر پہلے ہی والدین کو اپنے بچوں کی دوستوں کی مکمل فہرست دیکھنے کی سہولت دیتا تھا، تاہم اب یہ بھی دکھایا جائے گا کہ بچہ کسی نئے دوست کو ممکنہ طور پر کیسے جانتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ آیا دونوں کے مشترکہ دوست ہیں، وہ کانٹیکٹس میں محفوظ ہے، یا کسی مشترکہ کمیونٹی کا حصہ ہے۔
اسنیپ نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا کہ یہ ’’اعتمادی اشارے‘‘ والدین کے لیے نئے رابطوں کو سمجھنا آسان بناتے ہیں اور انہیں اس بات پر زیادہ اعتماد دیتے ہیں کہ ان کا بچہ حقیقی زندگی میں جاننے والے افراد سے بات کر رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق اگر والدین کسی ایسے نئے دوست کو دیکھیں جس سے وہ واقف نہیں، تو یہ معلومات تعمیری گفتگو شروع کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ اسنیپ نے 2022 میں فیملی سینٹر متعارف کرایا تھا، جو والدین کے لیے نگرانی کے مختلف ٹولز پر مشتمل ہے۔ یہ اقدام سوشل میڈیا کمپنیوں پر بچوں کو محفوظ رکھنے میں ناکامی کے الزامات اور ریگولیٹری دباؤ کے بعد اٹھایا گیا تھا۔ بعد ازاں اس ٹول میں مزید فیچرز شامل کیے گئے، جن میں بچوں کی حالیہ سرگرمیوں کی نگرانی، وقت کی حد مقرر کرنا اور ایپ کے مائی اے آئی چیٹ بوٹ تک رسائی روکنا شامل ہے۔
یہ نئے فیچرز ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسنیپ نے رواں ہفتے ایک 19 سالہ نوجوان کی جانب سے دائر مقدمہ نمٹا لیا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ اسنیپ چیٹ اور دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں نے ایسے الگورتھمز اور فیچرز تیار کیے جو لت کا باعث بنے اور صارفین کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچایا۔ تاہم میٹا، ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے خلاف مقدمات تاحال جاری ہیں، جن میں جیوری کے انتخاب کا عمل آئندہ ہفتے شروع ہونے کی توقع ہے۔
اسنیپ کے خلاف سوشل میڈیا کی لت سے متعلق دیگر مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق اسنیپ کے ملازمین نے تقریباً نو سال قبل ہی نوعمروں کی ذہنی صحت کو لاحق خطرات پر تشویش ظاہر کی تھی، تاہم کمپنی کا مؤقف ہے کہ ان مثالوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔
