اقوام متحدہ / خرطوم – اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے پیر کو سوڈان میں فوری جنگ بندی اور فوجی قیادت کے ساتھ ساتھ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کو بات چیت کے ذریعے تصفیہ پر آمادہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
گوتیرس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا کہ انہوں نے “انسانی ہمدردی کی امداد کی محفوظ اور بلا روک ٹوک ترسیل” کا مطالبہ بھی کیا، اور ساتھ ہی سوڈان میں ہتھیاروں اور جنگجوؤں کی منتقلی کو فوری طور پر روکنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا: “ہمیں سوڈان میں امن کی ضرورت ہے۔”
سوڈانی جنرل نے امریکی تجویز کو مسترد کر دیا
یہ اپیل ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوڈان کے اعلیٰ جنرل نے امریکی قیادت والے ثالثوں کی طرف سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز کو “اب تک کی بدترین” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
فوج کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو تبصروں میں، جنرل عبدالفتاح البرہان نے تجویز کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ثالثوں پر جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں “جانبدار” ہونے کا الزام لگایا۔
جنرل البرہان نے کہا کہ یہ تجویز “اب تک کی بدترین دستاویز سمجھی جاتی ہے،” کیونکہ یہ “مسلح افواج کو ختم کرتی ہے، سکیورٹی ایجنسیوں کو تحلیل کرتی ہے اور ملیشیا [RSF] کو وہیں رہنے دیتی ہے جہاں وہ ہیں۔”
انہوں نے دھمکی دی: “اگر ثالثی اسی سمت میں جاری رہی، تو ہم اسے ایک جانبدار ثالثی سمجھیں گے۔”
مسلح افواج کی شرائط
جنرل البرہان نے کسی بھی جنگ بندی کے لیے واضح شرائط پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج صرف اس وقت جنگ بندی پر راضی ہو گی جب RSF شہریوں کے علاقوں سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے تاکہ بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس جا سکیں، جس کے بعد تنازع کے سیاسی تصفیے کے لیے بات چیت شروع کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا: “ہم جنگجو نہیں ہیں، اور ہم امن کو مسترد نہیں کرتے، لیکن کوئی بھی ہمیں دھمکی نہیں دے سکتا اور نہ ہی ہم پر شرائط مسلط کر سکتا ہے۔”
سوڈان کا انسانی بحران
سوڈان اپریل 2023 میں اس وقت افراتفری کا شکار ہو گیا جب فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان طاقت کی کشمکش دارالحکومت خرطوم اور ملک کے دیگر حصوں میں کھلی جنگ میں بدل گئی۔
جانی نقصان: اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، اس تباہ کن جنگ میں 40,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، حالانکہ امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔
بے گھری: اس تنازعے نے دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران پیدا کیا ہے، جس میں 14 ملین سے زیادہ افراد اپنے گھروں سے بھاگنے پر مجبور ہوئے ہیں، بیماریاں پھیلی ہیں، اور ملک کے کچھ حصے قحط کی طرف دھکیل دیے گئے ہیں۔
