نیویارک(ویب ڈیسک): اقوامِ متحدہ کے یمن میں ریزیڈنٹ اور ہیومینیٹیرین کوآرڈینیٹر جولیئن ہارنیس نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں بچوں کی اموات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور آئندہ حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا،“سادہ حقیقت یہ ہے کہ بچے مر رہے ہیں اور حالات مزید خراب ہونے جا رہے ہیں۔ میرا خوف یہ ہے کہ ہمیں اس وقت تک اس بارے میں سننے کو نہیں ملے گا جب تک اموات اور بیماریوں کی شرح میں آئندہ برس نمایاں اضافہ نہیں ہو جاتا۔”
یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنوبی عبوری کونسل (STC) سے وابستہ فورسز نے یمن کے مشرقی اور وسائل سے مالا مال صوبوں حضرموت اور المہرہ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی۔ تاہم اطلاعات کے مطابق اس پیش رفت کو رواں ماہ کے اوائل میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی افواج نے روک دیا۔
یہ تازہ بحران ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری اس تنازع کے بعد سامنے آیا ہے جو حوثی قیادت میں موجود فورسز—جو دارالحکومت صنعا پر قابض ہیں—اور عدن میں قائم بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان جاری ہے، جسے سعودی قیادت میں فوجی اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔
جولیئن ہارنیس نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،
“یہ غیر معمولی طور پر پیچیدہ صورتحال ہے۔ صرف گزشتہ ماہ عدن میں ہم نے دیکھا کہ پہلے حکومتِ یمن قابض تھی، لیکن 48 گھنٹوں کے اندر جنوبی عبوری کونسل نے حکومت کے تمام علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا، حتیٰ کہ ان علاقوں پر بھی جہاں وہ پہلے کبھی موجود نہیں تھے۔”
تاہم چار ہفتے بعد ہی، سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں موجود جنوبی عبوری کونسل کے ایک وفد نے بیان جاری کیا کہ انہوں نے اپنی تحریک کو “تحلیل” کر دیا ہے، جس کے بعد حکومتِ یمن نے حالیہ قبضے میں لیے گئے علاقوں کا دوبارہ کنٹرول سنبھال لیا۔
لیکن ہارنیس کے مطابق،“اسی دوران عدن میں مظاہرے ہو رہے ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ ‘نہیں، ہم تحلیل نہیں ہوئے، ہم اب بھی موجود ہیں۔’”
گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ حالیہ سیاسی اور سلامتی کی ہلچل اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ایک قابلِ اعتبار اور جامع سیاسی عمل نہ ہو تو استحکام کس قدر تیزی سے بکھر سکتا ہے، اور یہ کہ اس تباہ کن جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔
یمن میں امن کے قیام اور جان بچانے والی امداد کی فراہمی اس وقت مزید مشکل ہو گئی ہے کیونکہ حوثی باغیوں نے—جو ایران کی حمایت یافتہ ہیں اور صنعا پر قابض ہیں—اقوامِ متحدہ کے عملے، سفارتی کارکنوں اور دیگر افراد کو حراست میں لے رکھا ہے۔
ہارنیس نے زیرِ حراست 69 اہلکاروں کے خاندانوں کی اذیت بیان کرتے ہوئے کہا،
“یہ ان خاندانوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے؛ کچھ خاندانوں نے اپنے پیاروں کو پانچ سال سے نہیں دیکھا۔ انہیں معلوم نہیں کہ وہ کن حالات میں قید ہیں، کہاں ہیں، یا آیا انہیں آنے والے دنوں میں سزائے موت دی جائے گی یا نہیں۔”
بھوک اور صحت کا بحران
اقوامِ متحدہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، اگلے ماہ یمن کی نصف آبادی، یعنی دو کروڑ سے زائد افراد، شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کریں گے، جبکہ دسیوں ہزار افراد قحط جیسی صورتحال میں جا سکتے ہیں۔
ہارنیس نے خبردار کیا،
“ہمیں توقع ہے کہ 2026 میں حالات اس سے بھی زیادہ خراب ہوں گے۔”
ملک کا صحت کا نظام بھی تباہی کے دہانے پر ہے۔ 450 سے زائد طبی مراکز پہلے ہی بند ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں مزید مراکز کو فنڈنگ ختم ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام بھی خطرے میں ہیں، اور شمالی علاقوں میں رسائی نہ ہونے کے باعث صرف دو تہائی بچے مکمل طور پر ویکسین شدہ ہیں۔
انہوں نے کہا،
“اقتصادی اور سیاسی فیصلوں کے نتیجے میں غذائی عدم تحفظ ملک کے تمام حصوں میں بڑھتا جا رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا،
“ہم ایک بڑی تبدیلی دیکھنے جا رہے ہیں جہاں صحت کے نظام کو وہ سہارا نہیں ملے گا جو ماضی میں دیا جاتا رہا ہے۔”
انسانی امداد اور خدشات
رسائی میں مشکلات کے باوجود، اقوامِ متحدہ کے شراکت داروں نے گزشتہ برس 34 لاکھ افراد تک غذائی امداد پہنچائی، جبکہ سیلاب اور بیماریوں کے پھیلاؤ کے دوران ہنگامی امداد بھی فراہم کی گئی۔
اقوامِ متحدہ 1960 کی دہائی سے یمن میں کام کر رہی ہے، جس کا مقصد ترقی کو فروغ دینا اور سب سے زیادہ کمزور افراد کا تحفظ کرنا ہے۔
ہارنیس نے کہا،“اور پھر اچانک گزشتہ چند برسوں میں یہ نظام ٹوٹ گیا… ناقابلِ فہم طور پر۔ اس کا انسانی امدادی کارکنوں پر نہایت خوفناک اثر پڑا ہے۔”
