ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی، ایک سال میں ایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ

نائب ترجمان محکمہ خارجہ ٹامی پیگوٹ کے مطابق، ویزے منسوخ کرنے کی چار بڑی وجوہات شامل ہیں۔

Editor News

واشنگٹن ڈی سی (ویب ڈیسک) امریکی محکمہ خارجہ نےایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کیئے جانےکی تصدیق کردی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ برسرِاقتدار آنے کے بعد سے اب تک ایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ یہ تعداد ایک نیا ریکارڈ ہے، جو ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

محکمہ خارجہ کے مطابق، منسوخ کیے گئے ویزوں میں
8,000 Student Visas جبکہ2,500 خصوصی ویزےشامل ہیں جو ان افراد کے تھے جن کا مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سابقہ رہا۔

محکمہ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر اپنے بیان میں کہا:
“ہم ان جرائم پیشہ افراد کو ملک بدر کرنا جاری رکھیں گے تاکہ امریکہ کو محفوظ رکھا جا سکے۔”

نائب ترجمان محکمہ خارجہ ٹامی پیگوٹ کے مطابق، ویزے منسوخ کرنے کی چار بڑی وجوہات شامل ہیں۔

ان وجوہات میں ویزا کی مدت سے زیادہ قیام،نشے کی حالت میں گاڑی چلانا (DUI)۔جسمانی حملہ (Assault)چوری (Theft) شامل ہیں

ترجمان نے مزید بتایا کہ 2024 کے مقابلے میں ویزوں کی منسوخی میں 150 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ویزا پالیسی کو مزید سخت کرتے ہوئے سوشل میڈیا کی جانچ پڑتال اور اسکریننگ کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایسے طلبہ اور ‘گرین کارڈ’ رکھنے والے افراد کو بھی ملک بدر کیا جا سکتا ہے جنہوں نے فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہرے کیے یا غزہ جنگ پر اسرائیل کے رویے پر تنقید کی۔ انتظامیہ نے ایسے اقدامات کو امریکی خارجہ پالیسی کے لیے خطرہ اور “حماس کی حمایت” قرار دیا ہے۔

محکمہ خارجہ نے ایک نیا مرکز بھی قائم کیا ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ امریکہ میں موجود تمام غیر ملکی شہری ملکی قوانین کی پابندی کریں۔ اگر کوئی غیر ملکی امریکی شہریوں کے لیے خطرہ پایا گیا تو اس کا ویزا فوری طور پر منسوخ کر دیا جائے گا۔

مزید برآں، بیرونِ ملک مقیم امریکی سفارت کاروں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے درخواست گزاروں پر کڑی نظر رکھیں جو امریکہ کے لیے معاندانہ سوچ رکھتے ہوں یا ماضی میں سیاسی طور پر زیادہ سرگرم رہے ہوں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *