واشنگٹن (ویب ڈیسک) – وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد حوصلہ مند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ اب ان کی نظریں دیگر ممالک پر بھی ہیں۔ اتوار کے روز ‘ایئر فورس ون’ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کولمبیا، کیوبا، گرین لینڈ، میکسیکو اور ایران کا نام لے کر دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اب “واشنگٹن کے حق” کے طور پر اپنے پڑوس میں جو چاہیں کرنے کی پالیسی اپنا رہے ہیں۔
1. گرین لینڈ: علاقائی الحاق کی خواہش
وینزویلا آپریشن کے بعد ٹرمپ نے ڈنمارک کے نیم خود مختار علاقے گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کرنے کی خواہش دوبارہ ظاہر کی ہے۔
انہوں نے اسے قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک اسے روس اور چین سے بچانے کی اہلیت نہیں رکھتا۔
ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے خبردار کیا ہے کہ زبردستی قبضے کی کوئی بھی کوشش نیٹو (NATO) کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔
2. کولمبیا: صدر پیٹرو کو سخت وارننگ
کولمبیا کے بائیں بازو کے صدر گستاوو پیٹرو کو ٹرمپ نے انتہائی سخت لہجے میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ “اپنی خیر منائیں”۔
ٹرمپ نے پیٹرو پر منشیات کے اسمگلروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کا وہی الزام لگایا جو انہوں نے مادورو پر لگایا تھا۔
صدر پیٹرو نے جواب دیا ہے کہ وہ امریکی دھمکیوں کے خلاف “ہتھیار اٹھانے” کے لیے تیار ہیں۔
3. کیوبا: “گرنے کے لیے تیار”
امریکہ کے پرانے حریف کیوبا کے بارے میں ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ وہ اب جلد ہی “گرنے والا” ہے۔
مادورو کی گرفتاری کے آپریشن میں کیوبا کے 32 محافظ مارے گئے۔
ٹرمپ کا خیال ہے کہ وینزویلا سے ملنے والے سستے تیل کی بندش کے بعد کیوبا کی معیشت فوجی مداخلت کے بغیر ہی ختم ہو جائے گی۔
4. میکسیکو: منشیات اور فوج کی مداخلت
ٹرمپ نے میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام پر زور دیا کہ وہ امریکی افواج کو میکسیکو میں داخل ہو کر منشیات کے گروہوں (Cartels) کے خلاف کارروائی کی اجازت دیں۔
صدر شینبام نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ “براعظم امریکہ کسی ایک طاقت کی ملکیت نہیں ہے”۔
5. ایران: “ایران کو دوبارہ عظیم بنائیں”
ایران کے جوہری پروگرام پر حالیہ حملوں کے بعد ٹرمپ نے تہران کو نئی دھمکی دی ہے کہ اگر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن بند نہ کیا گیا تو اسے “شدید ضرب” لگائی جائے گی۔ سینیٹر لنڈسے گراہم نے ٹرمپ کی ایک تصویر بھی شیئر کی جس میں انہوں نے ایک ٹوپی پکڑی ہوئی ہے جس پر “Make Iran Great Again” درج ہے۔
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی ماہر اصلی عدینتاسباس کا کہنا ہے کہ “ٹرمپ اس وقت ایک ‘شاہی صدارت’ کے نشے میں ہیں، لیکن اگر وینزویلا یا مشرق وسطیٰ میں حالات خراب ہوئے تو وہ بہت جلد اس کردار سے دلچسپی کھو سکتے ہیں۔”
