وینیزویلامیں حالیہ امریکی فوجی مداخلت اقوام متحدہ نےسوال اٹھادیئے

انتونیو گوتریس نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے پرامن اور جمہوری مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں

Editor News

نیویارک: اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وینیزویلا میں حالیہ امریکی فوجی مداخلت اور صدر نکولس مدورو کی ان کی اہلیہ سمیت گرفتاری پر سخت قانونی و سفارتی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے واضح کیا کہ 3 جنوری کو کیا گیا امریکی آپریشن بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی خود مختار ریاست کی سیاسی آزادی اور سرحدی سالمیت کا احترام عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے، جسے اس کارروائی میں مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ حملہ نہ تو وینیزویلا کی اجازت سے ہوا، نہ ہی سلامتی کونسل نے اس کی منظوری دی اور نہ ہی یہ کسی دفاعی ضرورت کے تحت تھا، اس لیے اسے قانونی جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔

عالمی برادری میں اس اقدام پر تقسیم دیکھی گئی۔ روس، چین اور دیگر اتحادیوں نے اسے عالمی امن کے لیے ایک “خطرناک مثال” قرار دیا، جبکہ نیٹو کے کچھ ممالک نے براہِ راست امریکہ پر تنقید کے بجائے قانونی حدود کے احترام پر زور دیا۔

یاد رہے کہ امریکی اسپیشل فورسز نے 3 جنوری کی رات کاراکاس میں کارروائی کر کے صدر مدورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیڈ روم سے حراست میں لیا اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے امریکہ منتقل کیا۔ پیر کے روز دونوں کو نیویارک کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان پر منشیات گردی اور کوکین کی اسمگلنگ جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔

انتونیو گوتریس نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے پرامن اور جمہوری مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں اور قانون کی حکمرانی کو ہر صورت مقدم رکھیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *