ڈھاکہ(ویب ڈیسک): بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کے تحفظ اور حالیہ سیاسی کشیدگی کے پیشِ نظر آئی سی سی (ICC) سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے تمام میچز بھارت کے بجائے سری لنکا منتقل کیے جائیں۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائڈرز (KKR) نے بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو اچانک اسکواڈ سے فارغ کر دیا۔ بی سی سی آئی (BCCI) نے فرنچائز کو ہدایت کی تھی کہ وہ مستفیض کو ریلیز کر دیں، جس پر بنگلہ دیشی حکومت اور کرکٹ بورڈ نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
آصف نظیر (اسپورٹس ایڈوائزر، بنگلہ دیش): انہوں نے اس اقدام کو بھارتی کرکٹ بورڈ کی “انتہاپسندانہ پالیسی” قرار دیا اور کہا کہ جب ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی بھارت میں معاہدے کے باوجود محفوظ نہیں، تو پوری ٹیم وہاں ورلڈ کپ کھیلنے کیسے جا سکتی ہے؟ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا، “غلامی کے دن ختم ہو چکے ہیں۔”
بنگلہ دیشی بورڈ کا کہنا ہے کہ بھارت میں موجودہ حالات ان کی ٹیم کے لیے سازگار نہیں ہیں، اس لیے کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے میچز کی منتقلی ضروری ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کی مشترکہ میزبانی بھارت اور سری لنکا کر رہے ہیں۔
بنگلہ دیش کو اپنے گروپ مرحلے کے تین میچز کولکتہ اور ایک میچ ممبئی میں کھیلنا تھا۔
پاکستان پہلے ہی بھارت کا سفر نہ کرنے کے معاہدے کے تحت اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا۔ اگر آئی سی سی نے بنگلہ دیش کی درخواست قبول کر لی، تو وہ دوسری ایسی ٹیم بن جائے گی جس کے میچز بھارت سے باہر منتقل ہوں گے۔
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اس وقت مزید کشیدہ ہوئے جب بنگلہ دیش میں توہینِ مذہب کے الزام میں ایک ہندو نوجوان کے قتل کا واقعہ پیش آیا۔ اس کے ردعمل میں بھارت میں احتجاج ہوا اور نئی دہلی میں بنگلہ دیشی ہائی کمیشن پر دھاوے کی کوشش بھی کی گئی۔ ان حالات نے کھیلوں کے میدان پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
