نیویارک/جوبا (ویب ڈیسک): اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے جنوبی سوڈان میں بڑھتی ہوئی تشدد کی لہر اور امدادی کارروائیوں پر حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ہفتے کے روز اپنے نائب ترجمان فرحان حق کے ذریعے جاری کردہ بیان میں انہوں نے بتایا کہ جنوبی سوڈان کی دو تہائی آبادی یعنی تقریباً 10 ملین افراد اس وقت زندگی بچانے والی انسانی امداد کے محتاج ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے طبی تنصیبات اور انسانی ہمدردی کے مراکز پر ہونے والے حملوں اور لوٹ مار کو “ناقابلِ قبول” قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق:
دسمبر کے آخر سے صرف جونگلی (Jonglei) ریاست میں 11 طبی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے میں ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کے قافلے پر حملے، ایم ایس ایف (MSF) کے اسپتال پر فضائی حملہ اور ‘سیو دی چلڈرن’ کے فیلڈ آفس کو نذرِ آتش کرنے جیسے سنگین واقعات پیش آئے۔
تشدد کی وجہ سے اس سال اب تک 3 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ ملک میں ہیضے کی وباء تیزی سے پھیل رہی ہے۔
انتونیو گوتیرس نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر فوجی آپریشن بند کریں، بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں اور امدادی کارکنوں سمیت اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔
