لاس اینجلس(ویب ڈیسک): اسٹریمنگ کمپنی نیٹ فلکس کی جانب سے وارنر برادرز (Warner Bros) کو خریدنے کی کوششوں کے درمیان ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیٹ فلکس فلموں کو سینما گھروں میں صرف 17 دن تک دکھانے پر اصرار کر رہا ہے، جس نے فلمی صنعت سے وابستہ افراد اور سینما مالکان میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
روایتی طور پر بڑی فلمیں کم از کم 45 دن تک سینما گھروں کی زینت بنتی ہیں، تاہم نیٹ فلکس کے اس مجوزہ 17 روزہ فارمولے کو سینما کے کاروبار کے لیے “تباہ کن” قرار دیا جا رہا ہے۔ AMC جیسے بڑے سینما چینز کا موقف ہے کہ فلموں کا دورانیہ کم کرنے سے تماشائی سینما آنے کے بجائے صرف دو ہفتے انتظار کر کے گھر بیٹھے فلم دیکھنے کو ترجیح دیں گے، جس سے روایتی فلمی نظام کمزور پڑ جائے گا۔
نیٹ فلکس کے شریک چیف ایگزیکٹو ٹیڈ سارانڈوس ماضی میں سینما کے روایتی ماڈل کو “فرسودہ” قرار دے چکے ہیں۔ اگرچہ حالیہ مذاکرات میں انہوں نے صنعت کاروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ وارنر برادرز کی فلموں کو “صنعت کے معیار” کے مطابق سینما میں ریلیز کرنے کے لیے پرعزم ہیں، لیکن اس “معیار” کی واضح تعریف تاحال سامنے نہیں آئی۔
اس ڈیل کے حوالے سے وارنر برادرز کے سی ای او ڈیوڈ زاسلاو کو بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ معروف فلمی جریدے ‘ڈیڈ لائن’ میں لکھا گیا ہے کہ زاسلاو فلموں کے مستقبل کے بجائے اپنے منافع کو ترجیح دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر یہ سودا مکمل ہو جاتا ہے تو زاسلاو ارب پتی بن جائیں گے، لیکن ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں سینما کی قدر کو مسلسل کم کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سودے کے نتائج اسٹریمنگ پلیٹ فارمز اور سینما گھروں کے درمیان طاقت کے توازن کو ہمیشہ کے لیے بدل سکتے ہیں۔ اگر وارنر برادرز جیسی بڑی کمپنی کی فلمیں محض دو ہفتوں بعد سینما سے ہٹا لی گئیں، تو یہ روایتی فلمی تقسیم کے نظام کے خاتمے کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
