برونڈی میں 80 ہزار پناہ گزینوں کی آمد، اقوامِ متحدہ کی ہنگامی امداد کی اپیل

اگرچہ عالمی دباؤ پر باغیوں نے انخلا کا دعویٰ کیا ہے، تاہم مقامی ذرائع کے مطابق ان کے ایجنٹ اب بھی شہر میں موجود ہیں۔

Editor News

بوجومبرا/نیویارک: اقوامِ متحدہ نے مشرقی جمہوریہ کانگو میں روانڈا کے حمایت یافتہ مسلح گروہ ‘M23’ کی تازہ ترین پیش قدمی کے بعد برونڈی پہنچنے والے 80,000 سے زائد پناہ گزینوں کے لیے 33 ملین ڈالر (تقریباً 28.3 ملین یورو) کی ہنگامی فنڈنگ کی اپیل کی ہے۔

رواں سال جنوری میں ‘گوما’ اور فروری میں ‘بوکاؤ’ جیسے اہم شہروں پر قبضے کے بعد، M23 باغیوں نے دسمبر کے آغاز میں برونڈی کی سرحد کے قریب نئی فوجی کارروائیاں شروع کیں۔

باغیوں نے لاکھوں کی آبادی والے اسٹریٹجک شہر ‘اویرا’ کا کنٹرول حاصل کر لیا، جس سے برونڈی کے ساتھ زمینی سرحد ان کے قبضے میں آگئی۔

اگرچہ عالمی دباؤ پر باغیوں نے انخلا کا دعویٰ کیا ہے، تاہم مقامی ذرائع کے مطابق ان کے ایجنٹ اب بھی شہر میں موجود ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (UNHCR) کے مطابق، 5 دسمبر سے اب تک تقریباً 80,000 افراد برونڈی میں داخل ہو چکے ہیں، جن میں 72 ہزار کے قریب کانگو کے شہری اور 8 ہزار برونڈی کے باشندے شامل ہیں جو واپس اپنے ملک لوٹے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق 20 سے 25 ہزار پناہ گزین یہاں موجود ہیں جن کے پاس نہ کھانا ہے اور نہ ہی ادویات۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔

ان علاقوں میں بھی ہزاروں بے سہارا خاندان کھلے آسمان تلے درختوں کے نیچے پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں پناہ گزینوں کی تعداد 90,000 تک پہنچ سکتی ہے۔ ادارے نے ایک تصویر جاری کی ہے جس میں درجنوں افراد بغیر کسی انفراسٹرکچر کے درختوں کے سائے میں پڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ان متاثرین کو انسانی بنیادوں پر فوری طور پر خوراک، چھت اور طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے عالمی برادری کو فی الفور فنڈز فراہم کرنے ہوں گے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *