تل ابیب/واشنگٹن(ویب ڈیسک): اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اتوار کے روز امریکہ روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ پیر کو فلوریڈا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ (AFP) کے مطابق، یہ رواں سال نیتن یاہو کا صدر ٹرمپ سے ملنے کے لیے امریکہ کا پانچواں دورہ ہے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ اور علاقائی ثالث غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی جانب بڑھنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
اسرائیلی اخبار ‘یدیعوت احرونوت’ کے مطابق، اس ملاقات میں خطے کے انتہائی حساس معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں شامل ہیں:
ایران کا ایٹمی پروگرام: ایران کی جانب سے ایٹمی پروگرام کی بحالی اور بیلسٹک میزائل صلاحیتوں میں اضافہ نیتن یاہو کی ترجیحات میں سرِ فہرست ہے۔
غزہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ: اکتوبر میں واشنگٹن کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد، جو فی الحال سست روی کا شکار ہے۔
حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی اور اسرائیل-شام سیکورٹی معاہدے پر بات چیت۔
غزہ معاہدے کا دوسرا مرحلہ انتہائی پیچیدہ ہے جس کے تحت:
اسرائیل کو غزہ سے اپنی فوجیں واپس بلانی ہیں۔
حماس کے بجائے ایک عبوری ٹیکنو کریٹ حکومت قائم ہونی ہے۔
غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) تعینات کی جانی ہے۔
سب سے بڑا تنازع حماس کے ہتھیار ڈالنے کی شرط پر ہے۔
امریکی ویب سائٹ ‘ایکسٹوز’ (Axios) نے وائٹ ہاؤس کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ غزہ کے لیے فلسطینی حکومت اور بین الاقوامی فورس کا اعلان جلد از جلد کرنا چاہتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سینئر امریکی حکام نیتن یاہو کے ان اقدامات سے “شدید مایوس” ہیں جو جنگ بندی کو کمزور کرنے یا امن عمل میں تاخیر کا باعث بن رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اس سے قبل صحافیوں کو بتایا تھا کہ نیتن یاہو کرسمس کی چھٹیوں کے دوران ان سے ملنے کے خواہشمند تھے، اور اب یہ ملاقات مار-اے-لاگو (Mar-a-Lago) ریزورٹ میں ہونے جا رہی ہے۔
