اقوام متحدہ کے یوتھ آفس کا پہلا سال: نوجوانوں کی آواز کو عالمی ایوانوں تک پہنچانے کا سفر

سوشل میڈیا کے الگورتھم مکالمے کے بجائے "پولرائزیشن" (تقسیم) پیدا کر رہے ہیں

Editor News

نیویارک: اقوام متحدہ کے یوتھ آفس کی سربراہ نے بتایا کہ ہائی اسکول میں عالمی ادارے کی اقدار سے متاثر ہونے کے بعد، انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ ایک دن اس تنظیم میں براہِ راست اہم کردار ادا کریں گی۔ یوراگوئے کی حکومت کے ساتھ کام کے دوران اقوام متحدہ کے مختلف اداروں (UNICEF، UNDP وغیرہ) کے ساتھ تعاون نے ان کے لیے اس سفر کی بنیاد رکھی۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ یونیورسٹی آف فلوریڈا سے ماسٹرز کر رہی تھیں، تب انہوں نے یوتھ آفس کی سربراہی کے لیے درخواست دی۔

اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل آمنہ محمد نے انہیں فون کر کے انتخاب کی خوشخبری سنائی اور محض 15 دن میں ذمہ داریاں سنبھالنے کا حکم دیا۔

پہلا سال ٹیم بنانے، چیلنجز کو سمجھنے اور نوجوانوں کی تنظیموں اور ریاستوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے میں صرف ہوا۔

یوتھ آفس اس وقت تین اہم نکات پر توجہ مرکوز کر رہا ہے:
فیصلہ سازی میں شرکت: نئی نسل کو صرف سنا نہ جائے بلکہ انہیں اقتدار کے ایوانوں اور فیصلہ سازی کے عمل میں عملی طور پر شامل کیا جائے۔
جنگ عظیم دوم کے بعد موجودہ دور میں سب سے زیادہ تنازعات دیکھے جا رہے ہیں۔ نوجوان امن کے فروغ اور جنگوں کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر قیادت کر رہے ہیں۔

ذہنی صحت اور فلاح و بہبود: یہ ایک “خاموش بحران” ہے۔ مستقبل سے ناامیدی، نفرت انگیز ڈیجیٹل کلچر، بے روزگاری اور موسمیاتی تبدیلی نوجوانوں میں بے چینی اور ڈپریشن پیدا کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں ایک عالمی مہم شروع کی گئی ہے جس میں 80 سے زائد ممالک کی 600 تنظیمیں شامل ہو چکی ہیں، جس سے اب تک 13 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے موجودہ دور کے ایک بڑے تضاد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تو ہیں لیکن حقیقت میں پہلے سے کہیں زیادہ تنہا ہیں۔

سوشل میڈیا کے الگورتھم مکالمے کے بجائے “پولرائزیشن” (تقسیم) پیدا کر رہے ہیں، جہاں لوگ ایک دوسرے کو سننے کے بجائے صرف بحث اور مقابلہ کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کی طرف واپسی، جس کی بنیاد ہی مکالمہ، تنوع کا احترام اور بین الاقوامی تعاون ہے۔

نوجوان پہلے ہی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ چھوٹے انفرادی اقدامات جب یکجا ہوتے ہیں، تو وہی عالمی تبدیلی کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *