بنگلہ دیشی نوجوان رہنماکا قتل:اقوامِ متحدہ کاشفاف تحقیقات کامطالبہ

بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق اس قتل کی فوری، غیر جانبدارانہ، مکمل اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں

Atif Khan

نیویارک / ڈھاکہ: اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے گزشتہ سال بنگلہ دیش میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے کلیدی رہنما شریف عثمان بن ہادی کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیشی حکام پر زور دیا کہ وہ اس واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کریں اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کریں۔

سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے نیویارک میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ انتونیو گوتیرس نے مطالبہ کیا ہے کہ:

“بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق اس قتل کی فوری، غیر جانبدارانہ، مکمل اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔”

سیکرٹری جنرل نے فروری 2026 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، کشیدگی کم کرنے اور پرامن انتخابی ماحول برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، وولکر ترک نے بھی شریف عثمان ہادی کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے جنیوا سے جاری ایک بیان میں کہا کہ “جوابی کارروائی اور انتقام صرف تقسیم کو گہرا کریں گے اور سب کے حقوق کو نقصان پہنچائیں گے۔”

میڈیا رپورٹس کے مطابق 32 سالہ نوجوان رہنما شریف عثمان ہادی کو 12 دسمبر کو ڈھاکہ کی ایک مسجد سے نکلتے ہوئے نقاب پوش حملہ آوروں نے گولی مار دی تھی۔ انہیں علاج کے لیے سنگاپور لے جایا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ ان کی موت کی خبر عام ہوتے ہی بنگلہ دیش کے مختلف حصوں میں شدید مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ دارالحکومت ڈھاکہ میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، جہاں کئی عمارتوں کو نذرِ آتش کیا گیا اور اخباری دفاتر پر حملوں سمیت صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

یہ حالیہ بے چینی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بنگلہ دیش ایک بڑے سیاسی بدلاؤ سے گزر رہا ہے۔ جولائی 2024 میں کوٹہ سسٹم کے خلاف شروع ہونے والے طلبہ احتجاج نے ایک ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر لی تھی، جس کے نتیجے میں اگست 2024 میں اس وقت کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کو استعفیٰ دے کر ملک سے فرار ہونا پڑا تھا۔ اقوامِ متحدہ کی تحقیقات کے مطابق اس تحریک کے دوران 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

شریف عثمان ہادی اس تحریک کے ایک نمایاں چہرے کے طور پر ابھرے تھے اور وہ فروری 2026 کے انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے زور دیا ہے کہ انتخابات سے قبل ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں ہر شہری محفوظ طریقے سے عوامی زندگی میں حصہ لے سکے اور اپنی رائے کا اظہار کر سکے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *