غزہ سٹی(ویب ڈیسک): یروشلم کے لاطینی پیٹریاک، کارڈینل پیئر بٹیسٹا پیزابالا نے اتوار کے روز غزہ سٹی کے “ہولی فیملی چرچ” میں کرسمس ماس (Christmas Mass) کی قیادت کی۔ دو سال سے جاری تباہ کن جنگ کے سائے میں یہ ان کا غزہ کا چوتھا دورہ تھا، جس کا مقصد وہاں محصور فلسطینیوں اور مسیحی برادری کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا تھا۔
عبادت کے دوران فلسطینیوں سے خطاب کرتے ہوئے کارڈینل پیزابالا نے کہا:
“ہم ایک انتہائی نازک صورتحال میں ہیں، لیکن ہمیں صرف زندہ نہیں رہنا بلکہ زندگی کو دوبارہ بسانا ہے۔ دنیا کی طاقتیں ہمارا مستقبل طے نہیں کریں گی، بلکہ یہ ہم ہیں جو فیصلہ کریں گے کہ سب کچھ کیسے دوبارہ تعمیر کرنا ہے۔ اپنی امید مت ہاریں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “دو سال کی ہولناک جنگ کے بعد بھی ہم یہاں موجود ہیں، اور اب ہمیں کرسمس کی روح یعنی روشنی اور ترقی کو آگے بڑھانا ہے۔”
رپورٹ کے مطابق، مرحوم پوپ فرانسس اکتوبر 2023 سے اپنی وفات تک روزانہ اس چرچ میں فون کر کے حالات دریافت کیا کرتے تھے۔ کارڈینل کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ کی کوششوں سے ہونے والی جنگ بندی (Ceasefire) کو دو ماہ گزر چکے ہیں، لیکن غزہ کے حالات اب بھی انتہائی مخدوش ہیں۔ خوراک کی قلت، امداد پر پابندیاں اور حالیہ سیلاب نے انسانی بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق:
11 اکتوبر سے اب تک کم از کم 401 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
7 اکتوبر 2023 سے اب تک مجموعی طور پر 70,925 فلسطینی شہید اور 1,71,185 زخمی ہو چکے ہیں۔
تباہی کے اس ماحول میں بھی چرچ کو سرخ اور سنہری رنگوں سے سجایا گیا تھا۔ اس موقع پر “ماریو” نامی ایک ننھے بچے کو بپتسمہ (Baptism) دیا گیا، جسے لاطینی پیٹریاکیٹ نے “نئی زندگی اور نئی امید” کی علامت قرار دیا۔
11 سالہ فلسطینی بچے جارج بیسن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی جولائی میں ہونے والے چرچ پر حملے کے صدمے میں ہے، لیکن اس کی نئے سال کی خواہش صرف یہ ہے کہ وہ امن سے رہ سکے اور اپنے بیرونِ ملک مقیم خاندان سے مل سکے۔
