لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

ڈزنی کی”موانا”باکس آفس پر بری طرح لڑکھڑا گئی

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

لاس اینجلس (ویب ڈیسک): والٹ ڈزنی اسٹوڈیوز کی بڑی امیدوں اور بھاری بجٹ سے تیار کی جانے والی لائیو ایکشن فلم “موانا” (Moana) کو سنیما گھروں میں انتہائی سرد ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد فلمی دنیا کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ فلم ڈزنی کے لیے 100 ملین ڈالر (تقریباً 28 ارب پاکستانی روپے) سے زائد کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، 250 ملین ڈالر کے خطیر بجٹ سے تیار کی گئی اس لائیو ایکشن فلم نے اپنے افتتاحی ویک اینڈ پر شمالی امریکہ (ڈومیسٹک مارکیٹ) میں محض 43 ملین ڈالر جبکہ دنیا بھر سے مجموعی طور پر صرف 95 ملین ڈالر کا بزنس کیا ہے، جو کہ اسٹوڈیو کے ابتدائی اندازوں اور توقعات سے بہت کم ہے۔

باکس آفس تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈزنی کی جانب سے یہ اقدام ایک بڑی اسٹریٹجک غلطی ثابت ہوا۔ سال 2016 کی اصل اینیمیٹڈ فلم اور پھر حال ہی میں ریلیز ہونے والی ‘موانا 2’ کے بعد اتنی جلدی لائیو ایکشن ورژن پیش کرنا شائقین کو متاثر نہیں کر سکا۔ ناظرین سینما گھروں میں بالکل نئی کہانی اور اچھوتے کردار دیکھنا چاہتے تھے، نہ کہ حال ہی میں دیکھی گئی اینیمیٹڈ فلم کا انسانی کرداروں کے ساتھ ہو بہو دوبارہ روپ۔

فلمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں ‘موانا’ کی کمائی میں کوئی جادوئی یا غیر معمولی اضافہ نہ ہوا تو یہ فلم ڈزنی کے لیے ایک تاریخی مالی دھچکا ثابت ہوگی۔ اس بڑے نقصان کے بعد ڈزنی کو اپنے مقبول اینیمیٹڈ کلاسک کارٹونز کو دھڑا دھڑ لائیو ایکشن ری میک میں تبدیل کرنے کی موجودہ تجارتی حکمتِ عملی پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔