زمزم پناہ گزین کیمپ پر RSF کا حملہ، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

حملے کے وقت زمزم کیمپ میں تقریباً 5 لاکھ افراد پناہ گزین تھے

Editor News

جنیوا : اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے (OHCHR) نے سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے دوران “زمزم” پناہ گزین کیمپ پر ہونے والے ہولناک حملے کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال اپریل میں پیراملٹری گروپ “ریپڈ سپورٹ فورسز” (RSF) اور ان کے اتحادی عرب ملیشیا کے تین روزہ حملے میں 1,013 سے زائد نہتے شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ٹرک (Volker Türk) نے رپورٹ کے نتائج شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے 319 افراد کو ان کے گھروں، مرکزی بازار، اسکولوں، مساجد اور طبی مراکز میں گھس کر بلا اشتعال گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔

ایک عینی شاہد کے مطابق، RSF کے جنگجوؤں نے اس کمرے کی کھڑکی کے سوراخوں سے رائفلیں اندر داخل کر کے فائرنگ کی جہاں 11 مرد چھپے ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں 8 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

جافالو مسجد میں 7 بزرگ شہریوں اور ایک مذہبی اسکول میں 16 افراد کو نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حملے کے دوران خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ کم از کم 104 افراد جنسی درندگی کا نشانہ بنے، جن میں 75 خواتین، 26 لڑکیاں اور 3 لڑکے شامل ہیں۔ متاثرین کی اکثریت کا تعلق زغاوہ (Zaghawa) نسلی قبیلے سے تھا۔ وولکر ٹرک کا کہنا ہے کہ یہ تشدد کمیونٹی میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے جان بوجھ کر کیا گیا۔

حملے کے وقت زمزم کیمپ میں تقریباً 5 لاکھ افراد پناہ گزین تھے، جو جنگ کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد 4 لاکھ سے زائد افراد کو ایک بار پھر دربدری کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق حملے سے قبل RSF نے کیمپ کا محاصرہ کر رکھا تھا اور خوراک، پانی اور ایندھن کی فراہمی معطل کر دی تھی، جس کی وجہ سے کئی خاندانوں کو زندہ رہنے کے لیے جانوروں کی خوراک (مونگ پھلی کے چھلکے) تک کھانا پڑی۔

وولکر ٹرک نے اس قتل عام کو “جنگی جرم” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ سوڈان میں ہونے والی اس بربریت پر خاموش نہ رہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان واقعات کی غیر جانبدارانہ اور موثر تحقیقات کرائی جائیں اور عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *