جنیوا : آج دنیا بھر میں ’بین الاقوامی یومِ مہاجرین‘ منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد لاکھوں تارکینِ وطن کی گراں قدر خدمات کا اعتراف کرنا اور ان چیلنجز پر روشنی ڈالنا ہے جن کا سامنا انہیں اپنی منزل کی تلاش میں کرنا پڑتا ہے۔
رواں برس جہاں ہجرت کے حوالے سے مثبت پہلو سامنے آئے، وہیں کچھ تلخ حقائق نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ رپورٹ کے مطابق: اس سال داخلی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔بدقسمتی سے دورانِ سفر ہلاک ہونے والے مہاجرین کی تعداد تاریخ کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی۔
تنازعات، موسمیاتی تبدیلیاں اور معاشی دباؤ کروڑوں لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں.بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (IOM) کے مطابق، مہاجرین صرف امداد کے طلبگار نہیں بلکہ وہ عالمی ترقی کے معمار ہیں۔
کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کو بھیجی جانے والی رقم اس سال ریکارڈ 685 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
مہاجرین ہنر مندوں کی کمی کو پورا کرنے، جدت پسندی (Innovation) کو فروغ دینے اور بوڑھے ہوتے معاشروں میں ڈیموگرافک توازن برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
آئی او ایم (IOM) نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جب ہجرت کو محفوظ اور منظم طریقے سے منظم کیا جاتا ہے، تو یہ سب کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔”ہر مہاجر کی کہانی ہمت اور امکانات کی کہانی ہے۔ جب ہجرت کا انتظام بہتر ہوتا ہے، تو ہر ذاتی کہانی ایک بڑے عالمی سفر کا حصہ بن جاتی ہے جو ثقافتوں کو تقویت دیتی اور ترقی کو مضبوط کرتی ہے۔”
اس سال کا تھیم اس بات پر مرکوز ہے کہ انسانی نقل و حرکت کس طرح معاشروں کو جوڑنے اور انہیں مستحکم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ تنظیم نے عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ ہجرت کے قانونی راستوں کو آسان بنایا جائے۔ مہاجرین کے بنیادی انسانی حقوق اور وقار کو یقینی بنایا جائے۔
ہنرمندی کی شناخت اور انضمام (Integration) کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جائے۔
ہجرت اس صدی کی ایک حقیقت ہے۔ اگر ہم ایک منصفانہ اور پائیدار مستقبل چاہتے ہیں، تو ہمیں مہاجرین کو بوجھ نہیں بلکہ ایک اثاثہ تسلیم کرنا ہوگا۔ آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ محفوظ اور منظم ہجرت ہی عالمی خوشحالی کی کلید ہے۔
