نیویارک(ویب ڈیسک): نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی نیویارک سٹی میں متعدد نئے قوانین نافذ ہونے جا رہے ہیں، جن میں ایک اہم قانون اپارٹمنٹ تلاش کرنے والوں کے لیے یہ جاننا آسان بنا دے گا کہ کسی عمارت میں کرایہ کنٹرول یا رینٹ اسٹیبلائزڈ یونٹس موجود ہیں یا نہیں۔
انٹرو 1037، جو رینٹ ٹرانسپیرنسی ایکٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جنوری سے نافذ العمل ہو گا۔ اس قانون کے تحت مکان مالکان کو اپنی عمارتوں میں موجود رینٹ اسٹیبلائزڈ اپارٹمنٹس کی معلومات عوامی طور پر ظاہر کرنا ہوں گی، ساتھ ہی ممکنہ کرایہ داروں کو یہ رہنمائی بھی فراہم کرنا لازم ہو گا کہ وہ ان یونٹس سے متعلق مزید تفصیلات کہاں اور کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔
قانون کے مطابق یہ معلومات عمارت کے کسی مشترکہ حصے، جیسے لابی میں نمایاں طور پر آویزاں کی جائیں گی، جبکہ یہ نوٹس انگریزی اور ہسپانوی زبان میں فراہم کرنا بھی ضروری ہو گا۔
یہ بل سٹی کونسل کی رکن سینڈی نرس نے پیش کیا تھا، جسے مئی میں نیویارک سٹی کونسل نے منظور کر لیا تھا۔ بعد ازاں یہ بل میئر ایرک ایڈمز کے پاس دستخط کے لیے بھیجا گیا، تاہم انہوں نے ایک ماہ تک نہ اس پر دستخط کیے اور نہ ہی ویٹو کیا۔ قانون کے مطابق اگر کوئی بل 30 دن کے اندر بغیر دستخط یا ویٹو کے واپس آ جائے تو وہ خود بخود قانون بن جاتا ہے۔
سینڈی نرس کے مطابق عمارت کے مشترکہ حصے میں یہ معلومات دستیاب ہونے سے کرایہ دار بااختیار ہوں گے اور مکان مالکان کو غیر قانونی طور پر کرایہ بڑھانے سے روکا جا سکے گا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران عدالتوں میں رینٹ اسٹیبلائزڈ یونٹس سے متعلق زائد کرایہ وصولی کی شکایات تقریباً 500 سے بڑھ کر 900 تک پہنچ گئی ہیں۔ ان کے مطابق لوگ اب اپنے کرایے کی تاریخ حاصل کر رہے ہیں اور یہ جان رہے ہیں کہ ان سے غیر قانونی طور پر زیادہ کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔
