واشنگٹن / کیوٹو: امریکا نے بدھ کے روز اپنے علاقائی انسدادِ منشیات آپریشن کے تحت ایکواڈور میں فضائیہ کے اہلکاروں کی عارضی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔ اس تعیناتی کی تعداد کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور لاطینی امریکی تیل پیدا کرنے والے ملک وینزویلا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی اہلکاروں کو ایکواڈور کے مانٹا ایئر فورس بیس پر تعینات کیا جائے گا، جو 2009 تک ایک دہائی کے لیے امریکی اڈے کے طور پر استعمال ہوتا رہا تھا۔
اگرچہ ایکواڈور کے ووٹرز نے نومبر میں صدر ڈینیئل نوبوا کی جانب سے غیر ملکی فوجی اڈوں پر عائد پابندی ختم کرنے کی تجویز کو واضح اکثریت سے مسترد کر دیا تھا، تاہم کیوٹو میں امریکی سفارت خانے کے مطابق یہ تعیناتی مانٹا میں ایکواڈور کی فضائیہ کے ساتھ ایک عارضی مشترکہ آپریشن ہے۔
امریکی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قلیل مدتی مشترکہ کوشش ایکواڈور کی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی تاکہ منشیات سے وابستہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جا سکے۔ اس میں انٹیلی جنس اکٹھی کرنے اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف صلاحیتوں کو مضبوط بنانا شامل ہے، اور اس کا مقصد امریکا اور ایکواڈور دونوں کو مشترکہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
ایکواڈور کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ فوجی سازوسامان کے ساتھ امریکی طیارے ملک پہنچ چکے ہیں، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
صدر ڈینیئل نوبوا ملک میں منشیات کارٹلز کے تشدد کی حالیہ لہر کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ گینگز کے خلاف جنگ کے لیے ایکواڈور کو بیرونی مدد کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا لاطینی امریکا میں منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف جارحانہ اقدامات کر رہا ہے۔ اس مہم کا مرکز وینزویلا کی سخت گیر بائیں بازو کی حکومت کے ساتھ بڑھتا ہوا تنازع ہے۔
رپورٹس کے مطابق لاطینی امریکا کے ساحلی پانیوں میں امریکی بحری اور فضائی اثاثے تعینات کیے جا چکے ہیں، جبکہ کیریبین سمندر اور بحرالکاہل میں منشیات لے جانے والی درجنوں چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن کارروائیوں میں اب تک کم از کم 95 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
