نیویارک/خرطوم: سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے دوران مسلح افواج (SAF) اور نیم فوجی گروہ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان لڑائی مزید سنگین ہوگئی ہے۔ جنوبی کردفان میں اقوام متحدہ کی ایک بیس پر ہونے والے ڈرون حملے میں چھ امن پسند فوجی جاں بحق ہو گئے ہیں، جن کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا۔
اقوام متحدہ کے عبوری سیکورٹی فورس برائے ابیی (UNISFA) کے مطابق، گذشتہ ہفتے کے آخر میں ڈرون حملوں میں چھ اہلکار جاں بحق اور آٹھ زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے نیروبی (کینیا) منتقل کر دیا گیا ہے۔
جنوبی کردفان میں ایک ہسپتال پر ہونے والے حملے میں بھی چھ افراد کی جانیں گئیں، جبکہ پیر کے روز ہونے والی شدید گولہ باری نے عام شہریوں کی زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
آئی او ایم (IOM) کے مطابق، صرف چند دنوں کے اندر جنوبی کردفان سے 1,700 سے زائد افراد بے گھر ہوئے، جبکہ شمالی دارفور میں الفاشر کے محاصرے کی وجہ سے ہزاروں افراد محفوظ مقامات کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ، وولکر ترک نے تمام متحارب فریقین اور بااثر ممالک سے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ:”طبی مراکز اور اقوام متحدہ کے امن پسند دستوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔”
پاکستان نے بنگلہ دیشی امن فوجیوں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دفترِ خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ان بزدلانہ حملوں کے ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے اور سوڈان میں شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
عالمی ادارہ خوراک (WFP) کے مطابق، رسائی کی دشواریوں کے باوجود وہ ہر ماہ دارفور کے علاقوں میں تقریباً 20 لاکھ لوگوں تک امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال امدادی کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ ہے۔
