امریکہ (ویب ڈیسک): امریکہ کے معروف لیٹ نائٹ میزبان جِمی کیمِل کے مستقبل کے بارے میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال ختم ہوگئی، کیونکہ اے بی سی نے ان کے پروگرام “جمی کیمِل لائیو!” کے لیے ان کا کنٹریکٹ مئی 2027 تک بڑھا دیا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وہ خواہش پوری نہ ہوسکی جس میں انہوں نے ٹی وی نیٹ ورک پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ کیمِل کو “شو سے نکال دیا جائے۔”
ستمبر میں اے بی سی نے جمی کیمِل کو قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے قتل کے بعد ان کے ریمارکس پر معطل کردیا تھا۔ عوامی ردعمل کے بعد معطلی ختم کی گئی اور کیمِل کی واپسی پر پروگرام کی ریٹنگ پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہوگئی۔
کیمِل نے صدر ٹرمپ پر طنز کے سلسلے کو جاری رکھا، یہاں تک کہ گذشتہ ماہ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر مطالبہ کیا کہ اے بی سی “اس آدمی کو شو سے نکال دے۔” یہ بیان کیمِل کے ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین فائلز پر تقریباً دس منٹ کے طنزیہ مونولوگ کے بعد سامنے آیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کیمِل نے چار بار آسکر کی میزبانی کی ہے، لیکن وہ کبھی کینیڈی سینٹر شو کی میزبانی نہیں کر سکے۔
سی بی ایس نے اعلان کیا تھا کہ اسٹیفن کولبیئر کا شو اگلے سال مئی میں ختم کیا جا رہا ہے، حالانکہ وہ لیٹ نائٹ میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پروگرام تھا۔ اس کے برعکس، اے بی سی نے کیمِل کے ساتھ کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
واپسی پر کیمِل نے اپنے الفاظ پر معافی نہیں مانگی، تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد کسی مخصوص گروہ کو ذمہ دار ٹھہرانا نہیں تھا، بلکہ وہ کسی نوجوان شخص کے قتل پر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوششوں کی نشاندہی کر رہے تھے۔
کیمِل کا تازہ کنٹریکٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ اے بی سی اپنے معروف میزبان کے ساتھ کھڑا ہے — چاہے صدر ٹرمپ اس سے خوش نہ ہوں۔
