نساؤ کاؤنٹی کے ایگزیکٹو بروس بلیکمین نے گورنر شپ کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کردیا ہے، جس کے بعد ان کا مقابلہ اپ اسٹیٹ کی کانگریس رکن ایلیس سٹیفانک سے ہوگا، جو پہلے ہی اپنی امیدواری کا اعلان کر چکی ہیں۔
سٹیفانک کی مہم کی جانب سے جاری ایک بیان میں بلیکمین پر شدید تنقید کی گئی۔ بیان میں کہا گیا
“نساؤ کاؤنٹی میں بھی بروس بلیکمین کے قریب ترین لوگ جانتے ہیں کہ ان کے پاس جیتنے کا کوئی موقع نہیں۔ وہ اپنی انا کو ترجیح دیتے ہیں اور نیویارکرز کو پس پشت ڈال رہے ہیں۔”
دونوں امیدوار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی ہیں۔ جب صدر ٹرمپ سے ان دونوں میں سے کسی کی حمایت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا:
“میں سوچ رہا ہوں، وہ بہت اچھی ہیں اور وہ بھی بہت اچھے ہیں؛ دونوں بہترین لوگ ہیں۔”
بلیکمین کی گورنر کی دوڑ میں شمولیت پر لانگ آئی لینڈ کے عوام میں مختلف آراء سامنے آئی ہیں، خاص طور پر ان کی وہ پالیسیاں جن میں:
عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے کے مقصد سے ماسک پہننے پر پابندی، کاؤنٹی کی ملکیت والے مقامات پر ٹرانس جینڈر خواتین اور لڑکیوں کے خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے پر پابندی۔”
اپنے سوشل میڈیا بیان میں بلیک مین نے کہا کہ نیویارکرز ایسے رہنما کے مستحق ہیں جو اخراجات کم کرے، عوامی تحفظ مضبوط بنائے اور نیویارک کو پہلی ترجیح دے۔
دوسری جانب، گورنر کیٹی ہاکل نے بلیکمین کے اعلان پر سخت ردِعمل دیا۔ انہوں نے کہا:
“بروس بلیکمین نے تقریباً ہر انتخاب ہارا ہے — چاہے وہ کاؤنٹی لیجسلیچر ہو، کمپٹرولر کا عہدہ، کانگریس یا سینیٹ۔ وجہ واضح ہے: ٹرمپ کی طرح وہ نیویارکرز کی جیبوں سے پیسہ نکالتے ہیں اور محنت کش خاندانوں پر بوجھ بڑھاتے ہیں۔”
ہاکل نے مزید کہا کہ بلیکمین نے اخراجات بڑھائے، ٹرمپ کے ٹیرف کی حمایت کی اور Medicaid میں کٹوتیوں کی تعریف کی، جس سے عوام پر مزید بوجھ پڑا۔
ریاستی سیاست میں اس اعلان کے بعد ریپبلکن پرائمری خاصی دلچسپی کا مرکز بن گئی ہے، اور دونوں امیدواروں کے بیانات سے واضح ہے کہ مقابلہ نہایت سخت ہوگا۔
