نیویارک میں عدالتوں اور چیک-اِنز پر ICE گرفتاریوں پر پابندی کا قانون پیش

کانگریس مین ڈین گولڈمین نے پیر کی صبح 26 فیڈرل پلازا کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس نئے بل کا اعلان کیا۔

Atif Khan

ے نیویارک: چار امریکی اراکینِ کانگریس نے نیویارک سٹی کی عدالتوں اور امیگریشن چیک-اِنز کے دوران ICE گرفتاریوں پر پابندی عائد کرنے کے لیے نئی قانون سازی متعارف کرائی ہے۔

کانگریس مین ڈین گولڈمین نے پیر کی صبح 26 فیڈرل پلازا کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس نئے بل کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا:
“یہ قانون ICE کو عدالت میں پیش ہونے والوں یا معمول کے چیک اِن کے لیے آنے والوں کی گرفتاری سے روکے گا۔ آپ اُن افراد کے ساتھ دھوکہ نہیں کرسکتے جو نظام کے تحت صحیح طریقے سے عمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”

“امیگریشن ڈیو پراسیس پروٹیکشن ایکٹ” کیا ہے؟
اس قانون کے تحت محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے افسران کسی بھی وفاقی عدالت کی عمارت میں عدالتی وارنٹ کے بغیر گرفتاری نہیں کر سکیں گے۔
یہ پابندی اُن تمام افراد پر لاگو ہوگی جن کے کیس زیرِ التواء ہیں اور جن کے خلاف آرڈر آف ریموول جاری نہیں ہوا۔

ریاستی قانون پہلے ہی بغیر جج کے دستخط شدہ حکم کے امیگریشن انفورسمنٹ کو ریاستی اور مقامی عدالتوں میں کارروائی سے منع کرتا ہے ایک قانون جسے ٹرمپ انتظامیہ نے چیلنج کیا تھا۔

فیڈرل ایجنٹس کی موجودگی پر تشویش
گولڈمین کے مطابق، انہیں پیر کی صبح امیگریشن عدالت کے باہر نقاب پوش فیڈرل ایجنٹس نظر آئے۔
کانگریس اراکین ادریانو ایسپائلٹ اور نڈیا ویلاسکیز نے بھی ان کی تصدیق کی اور کہا کہ انہیں پانچویں منزل پر موجود ICE چیک-اِن دفاتر میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔

گولڈمین نے صورتحال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ
“26 فیڈرل پلازا میں جو ہو رہا ہے، وہ جمہوریت نہیں ہے۔”

“ہم ہر ہفتے واپس آئیں گے” — ایسپائلٹ
ایسپائلٹ نے کہا کہ وہ ہر ہفتے واپس آ کر حالات کا جائزہ لیں گے۔
انہوں نے مزید کہا:
“ہم نے پہلے بھی کہا تھا اور آج بھی محسوس کرتے ہیں کہ یہ جارحانہ رویہ تارکینِ وطن کو زیرِ زمین دھکیل دے گا۔”

یہ قانونی اقدام امیگریشن کمیونٹی میں جاری خوف اور غیر یقینی صورتحال کو کم کرنے کی ایک بڑی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *