‘کرسمس پیکل’ — ایک دلچسپ تہوار کی روایت جسے ہر گھرانے میں پسند کیا جاتا ہے

حقیقت میں بہت سے پیکل آرنمنٹس جرمنی میں بنتے ضرور ہیں، لیکن وہ دیگر ممالک کو برآمد کیے جاتے ہیں۔

Editor News

اگر آپ نے اس تہوار کے موسم میں دکانوں میں کھیرے (پیکل) کی شکل کے کرسمس آرنمنٹس دیکھے ہیں اور سوچا ہے کہ آخر کون اپنے درخت کو نمکین ترشی کے اسنیک سے سجاتا ہے، تو یہ خبر خاص طور پر آپ کے لیے ہے۔ ’’کرسمس پیکل‘‘ کئی خاندانوں میں ایک دل چسپ روایتی کھیل ہے اور اگر آپ کے گھر میں بچے ہیں تو شاید آپ بھی اسے اپنانا چاہیں۔

اس روایت کے مطابق، کرسمس ایو (24 دسمبر) کی رات والدین چپکے سے ایک پیکل آرنمنٹ کرسمس ٹری میں ٹانگ دیتے ہیں۔کرسمس کی صبح جو بچہ سب سے پہلے پیکل ڈھونڈ لیتا ہے، اسے:پہلا تحفہ کھولنے کا موقع ملتا ہے، یاایک خصوصی تحفہ دیا جاتا ہے، یااسے گھر والوں کے باقی تحائف تقسیم کرنے کا اعزاز ملتا ہے۔

آخر یہ پیکل آرنمنٹ کی روایت آئی کہاں سے؟
اس روایت کی اصل کہانی کچھ پراسرار ہے۔ ’’کرسمس پیکل‘‘ کو جرمن زبان میں Weihnachtsgurke کہا جاتا تھا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ جرمنی میں شروع ہوئی ہوگی۔ لیکن آج کے دور کے جرمن عوام اس روایت کو نہیں مانتے، اس لیے یہ امکان کم ہے۔

حقیقت میں بہت سے پیکل آرنمنٹس جرمنی میں بنتے ضرور ہیں، لیکن وہ دیگر ممالک کو برآمد کیے جاتے ہیں۔

آج یہ روایت سب سے زیادہ امریکہ کے مڈویسٹ خصوصاً مشی گن میں مقبول ہے، جہاں جرمن نژاد افراد کی بڑی آبادی موجود ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *