امریکہ میں امیگریشن آپریشنز کا سلسلہ تیز، صدر ٹرمپ کا صومالی تارکین وطن پر سخت بیان

یہ تازہ آپریشنز لاس اینجلس، شکاگو، میمفس (ٹینیسی)، اور شارلٹ (نارتھ کیرولائنا) میں کیے گئے امیگریشن کریک ڈاؤن کے بعد کیے جا رہے ہیں۔

Editor News

امریکہ(ویب ڈیسک) : امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی (DHS) نے ملک بھر میں غیر دستاویزی (undocumented) تارکین وطن کے خلاف ایک نئے امیگریشن آپریشن کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صومالی تارکین وطن کے حوالے سے انتہائی سخت اور جارحانہ بیان دیا ہے

محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے نیو اورلینز میں ایک متوقع امیگریشن آپریشن کے آغاز کا اعلان کیا ہے، جسے “آپریشن کتاہولا کرنچ” کا نام دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن “مجرم غیر قانونی تارکین وطن” کو نشانہ بنا رہا ہے جنہیں “سینکچوری پالیسیوں” کی وجہ سے مقامی حکام نے رہا کر دیا تھا۔

سی این این کے ایک باخبر ذریعہ کے مطابق، منیسوٹا کے شہروں منیاپولس اور سینٹ پال میں غیر دستاویزی صومالی تارکین وطن کو نشانہ بنانے کے لیے ایک نیا امیگریشن آپریشن شروع ہو گیا ہے۔

یہ تازہ آپریشنز لاس اینجلس، شکاگو، میمفس (ٹینیسی)، اور شارلٹ (نارتھ کیرولائنا) میں کیے گئے امیگریشن کریک ڈاؤن کے بعد کیے جا رہے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کابینہ کے اجلاس میں صومالی تارکین وطن کے بارے میں انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے۔

انہوں نے کہا کہ ان تارکین وطن کو “واپس وہیں جانا چاہیے جہاں سے وہ آئے ہیں،” اور یہ کہ وہ ملک کے لیے “کوئی تعاون نہیں کرتے”۔

صدر ٹرمپ کی امیگریشن سے متعلق کوششوں نے پورے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہےجس کے بعدغیر قانونی سرحد عبور کرنے کے واقعات میں کمی آئی ہے۔پناہ (Asylum) کے کیسز اور پناہ گزینوں کے داخلے روک دیے گئے ہیں۔
اور کام کے ویزوں (Work Visas) پر بھی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *