نیویارک میں اسٹار بکس کے احتجاجی ملازمین کو بڑے سیاسی ناموں کی حمایت حاصل ہوگئی۔ زوہران ممدانی اور برنی سینڈرز نے اسٹار بکس کے کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اُن کے مطالبات کی حمایت کی اور ان کے ساتھ اسٹور کے باہر احتجاج میں شریک ہوئے۔
ملازمین کا کہنا تھا کہ کمپنی بغیر اطلاع شیڈول بدلتی ہے، اوقاتِ کار منصفانہ نہیں ہوتے اور اُن کے ساتھ مناسب سلوک نہیں کیا جاتا۔ ان شکایات کی تحقیقات کے بعد شہر کے حکام نے فیصلہ دیا کہ ملازمین درست ہیں۔
اس فیصلے کے بعد اسٹار بکس نے تقریباً 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر (39 ملین) 15 ہزار سے زائد ملازمین کو ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ یہ رقم پچھلے کئی سالوں میں غیر منصفانہ اوقاتِ کار اور تبدیل شدہ شیڈول کا ازالہ ہے۔
احتجاجی ملازمین اب بھی بہتر تنخواہوں، باقاعدہ شیڈول اور بہتر کام کے حالات کا مطالبہ کر رہے ہیں
