نیویارک میں رہائش کا سنگین بحران شدت اختیار کر گیا

مگر اس کامیابی نے واضح کر دیا کہ شہر میں رہائش کی لاگت ووٹرز کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

Atif Khan

نیویارک : ماہرین کے مطابق یہ بحران 2021 کے آخر سے شدت اختیار کرتا گیا. جب میئر بل ڈی بلاسیو کے دور کے آخری مہینے تھے۔ وبا کے دوران خالی گھروں اور عارضی رعایتوں کے ختم ہوتے ہی کرایے تیزی سے بڑھنے لگے۔

جوناتھن ملر، معروف رئیل اسٹیٹ اپریزر، نے بتایا:“یہ ایک حقیقی رولر کوسٹر رہا ہے۔ 2020 میں کمی کے بعد کرایے 2021 اور 2022 میں بہت تیزی سے بڑھے، پھر 2023 میں اضافہ جاری رہا، اور 2025 میں تو مزید اوپر چلے گئے۔”

ڈگلس ایلیمن کی تازہ ترین رپورٹ — جس کے مصنف خود ملر ہیں — اس صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتی ہے:

مین ہٹن میں اوسط کرایہ اکتوبر میں 9.4% اضافے کے ساتھ 5,651 ڈالر ماہانہ کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔

رینٹل انوینٹری میں 6.9% کمی ہوئی۔
مین ہٹن میں گزشتہ 19 ماہ سے انوینٹری مسلسل کم ہو رہی ہے۔

ملر کے مطابق:“تنخواہوں میں اتنا اضافہ نہیں ہو رہا جتنی تیزی سے کرایے بڑھ رہے ہیں۔ کچھ برسوں میں یہ صورتحال عام شہری کے لیے ناقابلِ برداشت ہو سکتی ہے — اور ہم اسی سمت بڑھ رہے ہیں۔”

نتخابات میں ممدانی نے 50.4% ووٹ حاصل کیے۔ نوجوان ووٹرز میں ان کی حمایت خاص طور پر نمایاں رہی — 30 سال سے کم عمر ووٹرز میں 78% اور 30 سے 44 سال کے درمیان 66% نے انہیں ووٹ دیا۔ حالانکہ ان کی تجاویز تفصیلی منصوبوں سے خالی تھیں اور ریاست کی گورنر کیتھی ہوکل جیسے ہم جماعت ڈیموکریٹس کی حمایت بھی بہت محدود تھی، جنہوں نے باوجود تحفظات کے، انہیں حمایت دی۔

مگر اس کامیابی نے واضح کر دیا کہ شہر میں رہائش کی لاگت ووٹرز کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

ممدانی کی مہم کی بنیاد: کرایوں میں منجمدی اور 200,000 سستے گھروں کی تعمیر کا وعدہ

اسی پس منظر میں زوہران ممدانی کی مقبولیت بڑھی۔ انہوں نے:تقریباً 10 لاکھ اسٹبلائزڈ اپارٹمنٹس کے کرایے منجمد کرنے،اور اگلے 10 سال میں 70 بلین ڈالر قرض لے کر 200,000 مستقل سستے گھروں کی تعمیر کا وعدہ کیا۔

ووٹرز کے لیے یہ وعدے ہی کافی تھے کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں — چاہے منصوبے کی تفصیلات ابھی واضح نہ ہوں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *