ویب ڈیسک: ابو ظبی — ساحلِ سعدیات پر واقع منارت السعدیات میں ابو ظبی آرٹ فیئر 2025 کی افتتاحی تقریب نے دنیا بھر سے آئے فنکاروں، گیلرسٹس اور آرٹ رائٹرز کو ایک ہی چھت تلے جمع کر دیا۔
17ویں ابو ظبی آرٹ فیئر میں 34 ممالک کی 140 سے زائد گیلریوں نے شرکت کی، جہاں جدید سے لے کر روایتی فنون تک کا تنوع نمایاں رہا۔ داخلی دروازے پر نصب تشرین شرپا کے فن پارے The Giant Ego-lessness نے آنے والوں کو فوراً اپنی جانب متوجہ کیا۔
فیئر کی ڈائریکٹر دیالا نسیبہ کے مطابق اس کا مقصد ابو ظبی کو عالمی فنون کی ایک ایسی گتھیلی (crossroads) کے طور پر پیش کرنا ہے جہاں مختلف ثقافتیں اور فنکارانہ روایتیں ایک دوسرے سے مکالمہ کرتی ہیں، جبکہ مقامی اماراتی اور خلیجی شناخت کو بھی بھرپور طور پر اجاگر کیا جاتا ہے۔ فیئر میں عرب جدیدیت (Arab Modernism) پر خصوصی توجہ رہی، جبکہ نائجیریا اور ترکی کو سرفہرست ممالک کے طور پر نمایاں مقام دیا گیا۔
شہر میں موجود آرٹ رائٹرز کے بین الاقوامی وفد میں میلانو، کاسابلانکا، ممبئی اور سیول سے تعلق رکھنے والے شرکاء شامل تھے، جو خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی ثقافتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے نظر آئے۔ کچھ مندوبین قطر میں ایم ایف حسین میوزیم کے افتتاح سمیت خطے کے دیگر اہم فن میلے بھی دیکھنے جا رہے تھے۔
فیئر میں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے فنکاروں کے نمائشی کام کو خاص پذیرائی ملی۔ بھارتی اور پاکستانی منی ایچر آرٹ (Miniature Painting) نمایاں رجحان کے طور پر سامنے آیا۔
گالری عیسیٰ (Galerie Isa)، ممبئی نے این سی اے لاہور کی گریجویٹ ایمان مسعود کے جادوئی منی ایچر پیش کیے جن میں فطرت اور ماورائی مناظر کے حسین امتزاج نے دیکھنے والوں کو مسحور کیا۔
پاکستانی فنکار ایس ایم خیّام کا Whispers of the Deewan مغلیہ روایت کو پاپ آرٹ کی تازگی کے ساتھ پیش کرتا نظر آیا۔
بھارت کے جگگو پرساد اور مہاویر سوامی نے انتہائی باریک بینی سے بنائے گئے پرندوں اور نباتات کے مناظر کو نمائش کا حصہ بنایا۔
فیئر کا ایک بڑا مرکز “Seeds of Memory: Migration as Ceremony, Survival and Renewal” تھا، جس میں ہجرت، یادداشت اور شناخت جیسے تصورات پر مبنی فن پاروں نے توجہ حاصل کی۔ ایرانی نژاد فنکارہ لیلا شیرازی کے کام نے خاص طور پر صنعتی اور نوآبادیاتی عمل کے اثرات کو منی ایچر روایت کے ذریعے پیش کیا۔
ایرانی گیلری سرائے (SARAI) کے اسٹال پر مسلم خضری اور ارکیدہ تورابی کے فن پاروں نے معاصر ایرانی معاشرت کی گہرائیوں کو اُجاگر کیا۔ تورابی کے رنگین، متحرک کردار اور خضری کے پُرسکون، اداس مناظر دونوں نے ایران کے سماجی و نجی پہلوؤں پر نیا زاویہ پیش کیا۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ابو ظبی اب عالمی فن حلقوں میں ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ جنوبی کوریا کے میگزین سے تعلق رکھنے والی ایک مندوب نے سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان میں بھی آرٹ کے لیے یہی فضا موجود ہے؟ جواب میں اسے بتایا گیا کہ اس کا بہترین حل پاکستان آکر خود دیکھنا ہے۔
