جنیوا، (رائٹرز) – قوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، دو سالہ غزہ جنگ اور اسرائیلی زیر قبضہ مغربی کنارے میں عائد اقتصادی پابندیوں نے فلسطینی معیشت کو تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار کر دیا ہے، جس نے دہائیوں کی ترقی کو ختم کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقیاتی ایجنسی (UNCTAD) کی منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 میں مغربی کنارے اور غزہ کی مجموعی فلسطینی معیشت میں 2022 کے مقابلے میں 30 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ گراوٹ 1972 میں ڈیٹا جمع کرنے کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ ہے، جو 2000 میں امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد دوسری انتفادہ سمیت پچھلے تمام معاشی بحرانوں سے زیادہ ہے۔
UNCTAD کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل پیڈرو مینوئل مورینو نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا: “جو کچھ ہم آج دیکھ رہے ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ طویل فوجی کارروائی، طویل عرصے سے عائد پابندیوں کے ساتھ مل کر، مقبوضہ فلسطینی علاقے کی معیشت کو ریکارڈ کی گئی سب سے گہری گراوٹ میں دھکیل چکی ہے۔”
غزہ کی بحالی میں لگیں گے دہائیاں
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فی کس مجموعی قومی پیداوار (GDP) واپس 2003 کی سطح پر آ گئی ہے، جس سے 22 سال کی ترقی کو نقصان پہنچا ہے۔ اس بحران کو 1960 کے بعد سے دنیا کے 10 بدترین بحرانوں میں شامل کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سالہ جنگ کے بعد غزہ میں تباہی کا پیمانہ اتنا زیادہ ہے کہ انکلیو کو آنے والے برسوں تک وسیع بین الاقوامی امداد پر انحصار کرنا پڑے گا۔
UNCTAD کے ماہر اقتصادیات، رامی العزہ نے اسی بریفنگ میں کہا: “غزہ کو تنازع سے پہلے کی پیداوار کو دوبارہ حاصل کرنے اور مکمل طور پر بحال ہونے میں دہائیوں لگیں گی۔ اور یہ بھی تب ممکن ہے جب تمام حالات درست سمت میں جائیں۔”
العزہ نے بتایا کہ غزہ میں فی کس جی ڈی پی سالانہ $161 ہے، یعنی تقریباً
44 سینٹ فی شخص یومیہ، جو کہ دنیا میں سب سے کم ترین سطح ہے۔
مغربی کنارہ بھی شدید متاثر
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مغربی کنارہ بھی نقل و حرکت اور رسائی پر پابندیوں اور معاشی مواقع کے خاتمے کی وجہ سے اپنی تاریخ کے سب سے شدید معاشی سکڑاؤ کا شکار ہے۔
UNCTAD کے معتصم الاگرع نے کہا کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد نے کسانوں کو اپنی فصلوں اور مویشیوں تک رسائی سے روکا ہے، جس سے فلسطینی معیشت کو مزید نقصان پہنچ رہا ہے۔
