لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کاتاریخی’ہاؤسنگ بل’ پردستخط کرنےسےانکار

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: وسط مڈ ٹرم الیکشن سے محض چار ماہ قبل امریکی سیاسی محاذ پر ایک بڑا اپ سیٹ سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ کانگریس سے بھاری اکثریت سے منظور ہونے والے دو حزبی (Bipartisan) ہاؤسنگ بل پر دستخط نہیں کریں گے۔

صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ ریپبلکن پارٹی کے ان ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا مانا جا رہا ہے جو مہنگائی اور رہائشی اخراجات سے پریشان ووٹرز کے سامنے اسے اپنی تاریخی اقتصادی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔

یہ بل جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات (آج آدھی رات کو) صدر کے دستخط کے بغیر بھی خودکار طریقے سے قانون بن جائے گا، تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کی کھلی مخالفت نے ریپبلکنز کی انتخابی مہم کو شدید متاثر کیا ہے۔

‘ٹروتھ سوشل’ پر احتجاج اور ‘سیو امریکہ ایکٹ’ کا مطالبہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر اس فیصلے کی وجہ بتاتے ہوئے لکھا:

“میں ہاؤسنگ بل پر دستخط نہیں کروں گا، جسے کانگریس نے مکمل طور پر منظور کر کے وائٹ ہاؤس بھیجا ہے۔ میں یہ قدم اس احتجاج کے طور پر اٹھا رہا ہوں کہ ہماری امریکی سینیٹ ‘دی سیو امریکہ ایکٹ’ (THE SAVE AMERICA ACT) کو پاس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔”

صدر ٹرمپ سینیٹ کے ریپبلکنز سے شدید ناراض ہیں جو ان کے پسندیدہ انتخابی اصلاحات کے بل (جس میں ووٹر آئی ڈی اور شہریت کے ثبوت کی شرط شامل ہے) کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے سینیٹ ریپبلکنز پر زور دیا کہ وہ اس قانون سازی کو پاس کرانے کے لیے ‘فلی بسٹر’ (Filibuster) کے قانون کو ختم کریں، ورنہ ریپبلکن پارٹی کو دنیا کی “سب سے بیوقوف” پارٹی کا خطاب مل جائے گا۔

گزشتہ 30 سالوں میں ہاؤسنگ افورڈیبلٹی (سستی رہائش) کے اس سب سے بڑے بل کو تیار کرنے کے لیے ریپبلکنز نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مہینوں مذاکرات کیے تھے۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے اسے غیر اہم قرار دیتے ہوئے “ایک جمائی” (A Yawn) اور “انتہائی غیر اہم” کہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس بل کے بجائے سود کی شرح (Interest Rates) کم کرنے سے ہاؤسنگ کا مسئلہ زیادہ بہتر حل ہو سکتا تھا، اور اس بل میں ڈیموکریٹس کو بہت زیادہ رعایتیں دی گئی ہیں۔

اس سے قبل جون میں جب اس بل کی خوشی میں کیپیٹل ہل پر ایک تقریب ہونی تھی، تو صدر ٹرمپ نے سینیٹ سے ناراضگی کے باعث آخری لمحات میں وہاں جانے سے انکار کر دیا تھا۔ ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن نے وائٹ ہاؤس کے کئی چکر لگا کر صدر کو قائل کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد صدر نے اسے ویٹو (Veto) نہ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن دستخط سے بھی ہاتھ کھینچ لیے۔

ڈیموکریٹس نے صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کو ہاتھوں ہاتھ لیا ہے اور اسے عوامی مسائل سے لاپروائی کا ثبوت قرار دیا ہے۔ میساچوسٹس کی سینیٹر الزبتھ وارن (Elizabeth Warren)، جنہوں نے اس بل کی تیاری میں مرکزی کردار ادا کیا، نے ایکس (ٹویٹر) پر لکھا:

“ڈونلڈ ٹرمپ کو آپ کے ہاؤسنگ اخراجات کم کرنے کی اتنی کم پرواہ ہے کہ انہوں نے گزشتہ 30 سال کے سب سے بڑے ہاؤسنگ بل پر دستخط کرنے سے ہی انکار کر دیا ہے۔”

ٹرمپ کے معاشی مشیر اسٹیفن مور نے بھی اس حکمت عملی پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ ایک بل کو یرغمال بنا کر دوسرے بل کو کیسے پاس کروایا جا سکتا ہے۔ مڈ ٹرم الیکشن کے اس نازک موڑ پر ٹرمپ کا اپنی ہی پارٹی کے رہنماؤں پر یہ غصہ ریپبلکن اکثریت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔