کاراکاس : وینزویلا میں آنے والے حالیہ تباہ کن زلزلے نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی تباہی مچائی ہے، جس کے بعد حکومت نے ملک بھر میں ایک ہفتے کے سرکاری سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔
قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز کے مطابق، آج سے شروع ہونے والے اس سات روزہ قومی سوگ کا مقصد زلزلے میں لقمہ اجل بننے والے ہزاروں شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔
تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، زلزلے کے نتیجے میں اب تک 2,300 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 10,571 تک پہنچ گئی ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ اب بھی 43 ہزار سے زائد افراد لاپتا ہیں، جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید ہولناک اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
68 لاکھ افراد متاثر ہونے کا خدشہ، ساحلی شہر ‘لا گوائرا’ ملبے کا ڈھیر
اقوام متحدہ (UN) نے خبردار کیا ہے کہ اس ہولناک قدرتی آفت سے متاثر ہونے والے افراد کی کل تعداد 68 لاکھ تک جا سکتی ہے، جو ایک بہت بڑے انسانی بحران کا پیش خیمہ ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے مطابق، دارالحکومت کاراکاس کے قریبی ساحلی شہر ‘لا گوائرا’ میں سب سے زیادہ تباہی دیکھی گئی ہے۔ وہاں بنیادی ڈھانچہ، سڑکیں اور مواصلاتی نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے اور شدید غذائی قلت پیدا ہو گئی ہے۔
متاثرہ علاقوں میں مقامی اور بین الاقوامی ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور زخمیوں کو طبی امداد دینے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وینزویلا کی تاریخ کی بدترین ترین آفات میں سے ایک ہے اور زندگی کو معمول پر لانے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ عالمی برادری اور امدادی تنظیموں نے وینزویلا کے لیے ہنگامی امداد کی اپیل کی ہے۔





