نیویارک / اسلام آباد (ویب ڈیسک):اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے فرسٹ سیکریٹری ذوالفقار علی (Zulifqar Ali) نے مذہبی آزادی اور عقائد پر خصوصی رپورٹر نازیلا گھانیا (Nazila Ghanea) کے ساتھ تعاملی مکالمے (Interactive Dialogue) کے دوران خطاب کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر اور خود بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر زبردست احتجاج درج کرایا ہے۔
پاکستانی مندوب نے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز مقبوضہ جموں و کشمیر میں نہ صرف جیتے جی کشمیریوں سے حقِ خودارادیت چھین رہی ہیں، بلکہ جعلی مقابلے اور جیلوں میں تشدد کے ذریعے شہید کیے جانے والے کشمیریوں کو باوقار تدفین اور اسلامی جنازے کے حقوق سے بھی محروم کر رہی ہیں، جو کہ انتہائی قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول ہے۔
پاکستانی نمائندے نے بھارتی پولیس کی جانب سے مسلمان مقتولین کی ان کے آبائی دیہات میں تدفین سے روکنے کے عمل پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت اور بھارتی حکام مسلسل مسلمانوں کے خلاف تشدد، پبلک لنچنگ اور خوف و ہراس کے ماحول کو فروغ دے رہے ہیں۔
OIC کی 18ویں اسلامو فوبیا رپورٹ: ذوالفقار علی نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے جاری ہونے والی او آئی سی (OIC) کی 18ویں اسلامو فوبیا رپورٹ میں ایک بار پھر دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف تعصب اور نفرت انگیز واقعات کا سب سے بڑا مرکز بھارت کو قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان نے اسپیشل رپورٹر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ وہ غیر ملکی تسلط اور غاصبانہ قبضے کے تحت زندگی گزارنے والی مذہبی اقلیتوں کے بدتر ہوتے حالات پر اپنی رپورٹنگ اور نگرانی کا سلسلہ مستقل جاری رکھیں۔





